ایران کی امریکی جہازوں پر فائرنگ ’چھوٹا دوستانہ دھچکا‘ تھا: صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جنگی جہازوں پر ایران کی فائرنگ ’ایک چھوٹا دوستانہ دھچکا‘ تھا اور جنگ بندی برقرار ہے-
جمعے کی صبح ایرانی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم نے پاسداران انقلاب کی طرف سے میزائل داغے جانے کے لمحے کی ویڈیو فوٹیج جاری کی، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ آبنائے ہرمز اور قشم اور بندر عباس سے ملحقہ ساحلوں میں امریکی بحری جہازوں پر فائر کیے گئے۔
اس ویڈیو اور اس میں ظاہر کی جانے والی تصاویر کی درستگی یا صحیح تاریخ کی تصدیق کسی بین الاقوامی نشریاتی ادارے نے نہیں کی تاہم سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سے وہاں موجود تین امریکی جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
جمعرات کی شب ایران نے امریکہ پر 7 اپریل کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا اور آبنائے ہرمز میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایران نے اس واقعے کو اپنی مسلح افواج اور ’دشمن‘ کے درمیان فائرنگ کے تبادلے سے تعبیر کیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بندرعباس کے قریب متعدد دھماکے سنے گئے، جب کہ خلیج فارس کے سب سے بڑے جزیرے قشم میں واقع ایک گھاٹ کے تجارتی حصوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے ’فوری طور پر جوابی کارروائی‘ کی اور امریکی فوجی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس سے ’کافی نقصان‘ ہوا۔
ادھر کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سننے کے باوجود، ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک رپورٹر نے کہا، ’زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔‘
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ آبنائے میں تین امریکی بحری جہازوں پر حملہ کیا گیا تاہم انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی ’جارحیت پسندوں‘ کو ’بہت نقصان‘ پہنچایا گیا ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں فائرنگ کے تبادلے کو ’ایک چھوٹا دوستانہ دھچکا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران سے جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔

