مشرق وسطیٰ میں تنازعے کا دوبارہ آغاز ’ناقابل قبول‘ ہوگا: چینی صدر
چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک ’اہم موڑ‘ پر ہے اور اس وقت جنگ سے امن کی جانب منتقلی کے مرحلے میں ہے تاہم تنازع کا دوبارہ آغاز ’ناقابل قبول‘ ہوگا۔
چینی صدر نے یہ بات روسی صدر پوتن سے ملاقات کے دوران کہی جو اس وقت چین کے سرکاری دورے پر موجود ہیں جہاں وہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ بیجنگ میں ایک سربراہی اجلاس میں شریک ہیں۔
چینی میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے موجودہ عالمی صورتحال کو ’پیچیدہ اور غیر مستحکم‘ قرار دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو مل کر’مزید منصفانہ اور مساوی عالمی طرز حکمرانی کے نظام‘ کی تشکیل کے لیے کام کرنا چاہیے۔
اس موقع پر روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان تعلقات ’غیر معمولی حد تک بلند سطح‘ تک پہنچ چکے ہیں اور گزشتہ 25 برسوں کے دوران روس اور چین کے درمیان تجارتی حجم میں 30 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ پوتن کا اس سال پوتن کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تنہائی کا شکار ہوتے روس کے لیے چین کس قدر اہم بن چکا ہے۔
شی جن پنگ ’عزیز دوست‘ ہیں: ولادیمیر پوتن
روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق صدر پوتن نے شی جن پنگ کو پہلے کی طرح ایک بار پھر ’عزیز دوست‘ قرار دیا۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے اس موقع پر کہا کہ چین اور روس کے تعلقات جس سطح تک پہنچے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک مسلسل ’باہمی سیاسی اعتماد اورسٹریٹیجک تعاون کو مضبوط‘ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
شی جن پنگ نے موجودہ عالمی صورتحال کو ’پیچیدہ اور غیر مستحکم‘ قرار دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو مل کر’مزید منصفانہ اور مساوی عالمی طرز حکمرانی کے نظام‘ کی تشکیل کے لیے کام کرنا چاہیے۔