اہم خبریں

نوجوان حمزہ خان قتل کیس، سابق ایس پی عارف شاہ کو سزائے موت

مئی 20, 2026

نوجوان حمزہ خان قتل کیس، سابق ایس پی عارف شاہ کو سزائے موت

اسلام آباد پولیس کے سابق ایس پی عارف حسین شاہ پر حمزہ خان کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر عدالت نے سزائے موت سنائی ہے۔

مجرم عارف حسین شاہ کو دس لاکھ جرمانہ کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

مقتول حمزہ خان کا تعلق ضلع ایبٹ آباد کے علاقے گلیات سے تھا۔ حمزہ خان کے لاپتہ ہونے کے بعد ابتدائی طور پر ان کے بھائی محمد وقار کی مدعیت میں ان کی گمشدگی کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا۔

مقدمے کا پسِ منظر
گزشتہ برس 15 مارچ کو حمزہ خان اسلام آباد میں اپنے گھر والوں کو یہ بتا کر نکلے کہ وہ مانسہرہ میں اپنے بچپن کے دوست کے والد سے ملنے جا رہے ہیں، جن کے ساتھ ان کا لین دین کا تنازع تھا۔

سینیٹ آف پاکستان میں ملازم حمزہ خان کو توقع تھی کہ وہ افطاری کے بعد یا اگلی صبح واپس گھر آ جائیں گے، گھر والوں کے ساتھ ان کا 16 مارچ کی صبح سحری تک رابطہ بھی قائم رہا مگر صبح پانچ بجے کے بعد ان سے گھر والوں کا رابطہ ختم ہو گیا۔

حمزہ خان بطور اسسٹنٹ ملازمت کرنے کے ساتھ گاڑیوں اور پراپرٹی کی لین دین کا کام بھی کرتے تھے۔

حمزہ کے گھر والوں نے جب ان کے بچپن کے دوست اور ان کے والد عارف حسین شاہ سے حمزہ کے متعلق جاننے کے لیے رابطہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ ‘انھوں نے حمزہ کو ضلع مانسہرہ کے علاقے خاکی سے اسلام آباد کے لیے روانہ کر دیا تھا۔’

حمزہ کے دوست کے والد عارف شاہ اسلام آباد پولیس میں ایس پی رہ چکے ہیں۔

گمشدگی کے مقدمے کے اندراج کے کچھ دن بعد حمزہ کے بھائی وقار نے تحریری بیان میں اپنے بھائی کے بچپن کے دوست اور ان کے والد کو اس مقدمے میں نامزد کر دیا۔

محمد وقار نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ ‘میرا چھوٹا بھائی حمزہ خان مانسہرہ گیا تھا لیکن واپس نہیں آیا اور نہ ہی اس کا کچھ پتا چلا ہے۔’

پولیس کو دیے گئے تحریری بیان میں کہا گیا کہ ‘مورخہ 11 مارچ کو رقم کے لین دین کے تنازعہ پر حمزہ خان کا چھٹہ بختاور میں اپنے دوست اور اس کے والد کے ساتھ جھگڑا اور تلخ کلامی ہوئی تھی۔ مجھے قوی شبہ ہے کہ میرے بھائی کو ان دونوں نے مل کر اغوا کیا۔’

پولیس نے شک کی بنیاد پر حمزہ کے دوست اور ان کے والد کو گرفتار کیا تو وہ دونوں اپنے اسی موقف پر قائم رہے کہ انھوں نے حمزہ کو خاکی کے علاقے میں گاڑی سے اتار دیا تھا اور وہ حمزہ کی گمشدگی کے سلسلے میں اپنی لاعلمی ظاہر کرتے رہے۔

پھر 15 اپریل کو اسلام آباد پولیس نے مانسہرہ پولیس کی مدد سے حمزہ کی لاش کو مانسہرہ سے برآمد کیا، جہاں پر ان کو گڑھا کھود کر مٹی اور گوبر میں دفن کیا گیا تھا۔

ڈی آئی جی اسلام آباد جواد طارق نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 28 سالہ حمزہ کو ان کے دوست کے والد جو اسلام آباد پولیس کے سابق ایس پی ہیں نے اپنے ہی بہنوئی کے ساتھ مل کر قتل کیا۔

ڈی آئی جی اسلام آباد نے دعویٰ کیا کہ حمزہ کو ان کے دوست کے والد نے لین دین کے تنازعے پر مانسہرہ میں اپنے ہی گھر میں قتل کیا۔
انھوں نے بتایا کہ جب تفتیش کی گئی تو پتہ چلا کہ اسلام آباد پولیس کے سابق ایس پی حمزہ کے ساتھ رابطے میں تھے۔

ڈی آئی جی اسلام آباد جواد طارق نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے سابق ایس پی کے مانسہرہ والے گھر سے حمزہ کی لاش کو برآمد کر لیا ہے۔

پولیس نے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا ہے جبکہ سابق ایس پی اور ان کے ساتھی گرفتار ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں حمزہ کے سر پر پیچھے سے گولی ماری گئی تھی۔
دوسری جانب حمزہ کے بھائی محمد وقار کا دعویٰ تھا کہ ان کے بھائی پر بے رحمانہ تشدد کیا گیا۔ ‘میت کے سامنے کے دانت ٹوٹے ہوئے تھے اور چہرے پر شدید ضربوں کے نشانات تھے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے