پاکستان، سعودی عرب اور قطر کو اسرائیل کو تسلیم کرنا ہوگا: صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اُن پر لازم ہے کہ وہ اجتماعی طور پر ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائیں تاکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لایا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ وہ ’لازمی طور پر مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام ممالک فوری طور پر ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کریں اور اگر ایران معاہدہ کر لیتا ہے تو بطور صدرِ امریکہ تو یہ اعزاز ہو گا کہ وہ بھی اس بے مثال عالمی اتحاد کا حصہ بنیں۔‘
اپنے پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ انھوں نے سنیچر کو ان ممالک کے رہنماؤں سے بات کی اور اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے رہنماؤں سے بھی گفتگو کی جو پہلے ہی ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کر چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ جن ممالک سے انھوں نے بات کی، ان میں سے ایک یا دو کے پاس ابراہیمی معاہدوں میں شامل نہ ہونے کی کوئی وجہ ہو سکتی ہے ‘لیکن اکثر ممالک کو چاہیے کہ وہ تیار ہوں تاکہ ایران کے ساتھ اس معاہدے کو مزید تاریخی بنایا جا سکے۔’
ابراہیمی معاہدے یا ’ابراہیم اکارڈز‘ سے مراد مسلم اکثریتی ممالک کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنا ہیں۔
سنہ 2020 کے دوران ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کر کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔
مگر اب صدر ٹرمپ کے حالیہ اعلان کے بعد ’نیو ابراہیم اکارڈز‘ کی بازگشت ہے جس میں سعودی عرب، پاکستان، قطر اور دیگر ممالک کو بھی اس میں شامل ہونے کا کہا گیا ہے۔
پاکستان نے اس معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا مگر ماضی میں دفتر خارجہ کے ترجمان ملک کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت کے امکان کو مسترد کر چکے ہیں۔