ایکسپورٹرز کو چھوٹ یا اشرافیہ کو نوازنے کا حربہ، علی ارقم کا کالم
خبر یہ ہے کہ حکومت پاکستان آنے والے بجٹ میں برآمد کنندگان یعنی ایکسپورٹرز کے لیے 100 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف پر غور کر رہی ہے۔
جسے پڑھ کر میرے ذہن میں پہلا خدشہ یہ ابھرا کہ حکومت ان اضافی ایک سو ارب روپے کا بندوبست کہاں سے کرے گی؟
حکومت تو پہلے ہی خسارے میں چل رہی ہے۔ مزید ایک سو ارب روپے کے اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے کیا پھر یہی روایتی راستے اختیار کیے جائیں گے؟ یعنی بجلی مزید مہنگی ہوگی، ان ڈائریکٹ ٹیکس بڑھیں گے، پیٹرولیم لیوی میں اضافہ ہوگا، یا تنخواہ دار طبقے سے مزید ٹیکس کٹوتی کرکے ان پر بوجھ ڈالا جائے گا؟
پاکستان میں ”ایکسپورٹرز“ اکثر صنعتی ترقی اور جدت کے علمبردار ہونے کے بجائے ایک طاقتور پالیسی لابی کا کردار ادا کرتے ہیں، تاکہ عوامی مسائل سے زیادہ سے زیادہ مالی فوائد اور ریاستی مراعات حاصل کی جائیں، جبکہ بدلے میں ملکی معیشت یا عام آبادی کو کم سے کم سہولت منتقل ہو۔
یعنی ایک طرح سے ایک چھوٹی، منظم اور بااثر اشرافیہ کو ریلیف دینے کیلئے غیر منظم، کمزور اور سیاسی نمائندگی سے محروم عوام سے وصولی۔
ارے رکیے، میں معیشت کی ترقی اور اس کیلئے برآمدات میں اضافے کی اہمیت کا قطعاً منکر نہیں۔
ہر ملک برآمدات بڑھانا چاہتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ اگر صنعت چلے گی تو ملک میں زرمبادلہ آئے گا، روزگار پیدا ہوگا اور معیشت کو سہارا ملے گا۔ مسئلہ مگر وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں یہ دیکھا جائے کہ ان مراعات کا حقیقی فائدہ آخر کس کو پہنچتا ہے۔
میں کراچی میں پاکستان کے سب سے اہم برآمدی شعبے یعنی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے انفارمل حصے پر ایک مطالعے کا حصہ رہا ہوں، اسی لیے اپنی بات سامنے رکھنے کیلئے اسی شعبے کی مثال دیتا ہوں۔
پاکستان میں ٹیکسٹائل مصنوعات جیسے تولیے، بیڈ شیٹس، صفائی کے کپڑے، فیکٹریوں یا دیگر شعبوں میں استعمال ہونے والے ورکرز یونیفارمز وغیرہ عموماً بڑے ایکسپورٹر خود مکمل طور پر تیار نہیں کرتے بلکہ نچلی سطح پر موجود چھوٹے انفارمل یونٹس سے “کٹ میک اینڈ ٹرم” (CMT) کی بنیاد پر کام کرواتے ہیں۔
یہی چھوٹے یونٹس، جو کراچی میں سائیٹ، نیو کراچی، گودھرا، اورنگی ٹاؤن، لانڈھی اور دیگر صنعتی علاقوں کی تنگ و تاریک گلیوں میں دس بیس کاریگروں کے ساتھ چل رہے ہوتے ہیں، کپڑے کی سلائی، فنشنگ اور دیگر مراحل انجام دیتے ہیں۔
یہ یونٹس اکثر کسی باقاعدہ نظام کا حصہ نہیں ہوتے۔ مزدوروں کی کم سے کم اجرت، کام کے اوقات، حفاظتی انتظامات، سوشل سیکیورٹی، خواتین مزدوروں کے حقوق یا بچوں سے مشقت جیسے معاملات تقریباً مکمل طور پر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔
مزدور ظالمانہ ٹھیکیداری نظام کے تحت روزانہ بارہ بارہ گھنٹے دن اور رات کی شفٹس میں کام کرتے ہیں مگر ان کے پاس نہ مستقل ملازمت ہوتی ہے، نہ طبی سہولت، نہ پنشن اور نہ ہی کسی قانونی تحفظ کی ضمانت۔
میں نے ان مزدوروں کے زرد اور بے رونق چہرے، استخوانی بدن اور کمزور و نَاتواں جسم دیکھے ہیں، جنہیں دیکھ کر اپنے جسم کا اضافی ماس بھی اسباب عیش محسوس ہوتا ہے
ایسے میں جب حکومت کہتی ہے کہ وہ ایکسپورٹرز کو سو ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دینے جا رہی ہے تو بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس رعایت کا کوئی حصہ اس نچلی سطح تک بھی پہنچے گا جہاں اصل محنت کی جاتی ہے؟
پاکستان کے ماضی کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ایسا ہونا بہت مشکل ہے۔ جہاں اصل محنت ہوتی ہے، منافع کا سب سے کم حصہ بھی وہی طبقہ حاصل کرتا ہے۔
ہمارے ہاں برآمدات کا ایک بڑا حصہ دراصل ایک ایسے معاشی ڈھانچے پر کھڑا ہے جہاں اوپر موجود بڑا ایکسپورٹر ریاست سے مراعات لیتا ہے، مگر نیچے موجود چھوٹے یونٹس اور مزدوروں پر لاگت کم رکھنے کیلئے مسلسل دباؤ ڈالتا ہے۔ یعنی اوپر ریاستی سہولتیں اور نیچے سستی محنت۔
اسی عمل کو معاشیات میں “رینٹ سیکنگ” (Rent-Seeking) کہا جاتا ہے، یعنی ریاستی مراعات سے فائدہ اٹھانا لیکن نہ ورکنگ کنڈیشن بہتر بنانا، نہ نئی پیداوار اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ لگانا، اور نہ ہی کوئی بہتر صنعتی نظام قائم کرنا۔
سوال یہ نہیں کہ برآمدات کو سہارا کیوں دیا جا رہا ہے۔ ہر ملک اپنی برآمدات بڑھانا چاہتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ریاستی معاونت کے ساتھ کوئی سماجی یا صنعتی شرائط وابستہ نہیں ہوتیں۔
مثلاً کبھی یہ شرط نہیں رکھی گئی کہ:
جو صنعت رعایت لے گی وہ مزدور کو مقررہ کم از کم اجرت کی ادائیگی یقینی بنائے گی،
تمام کارکنوں کی رجسٹریشن کرے گی،
خواتین کیلئے محفوظ ماحول فراہم کرے گی،
بچوں سے مشقت ختم کرے گی،
یا اپنی پیداوار میں نئی ٹیکنالوجی اور تربیت پر سرمایہ لگائے گی۔
بدقسمتی سے ایسا ہوتا نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مراعات اوپر جمع ہوتی رہتی ہیں جبکہ نیچے موجود مزدور اور چھوٹے یونٹس غیر محفوظ ہی رہتے ہیں۔
عام آدمی کیلئے اس پالیسی کا مثبت پہلو صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب واقعی نئی ملازمتیں پیدا ہوں، مزدور کی اجرت بہتر ہو، صنعتی پیداوار میں وسعت آئے اور برآمدات کا فائدہ وسیع سماجی دائرے تک پہنچے۔
مگر اگر ماضی کی طرح یہ ریلیف صرف بڑے ایکسپورٹرز کے منافع، نقدی کے بہاؤ اور کاروباری تحفظ تک محدود رہتا ہے تو پھر عام آدمی کیلئے اس کا فائدہ بہت محدود ہوگا۔
بلاشبہ پاکستان کی معیشت کو برآمدات کی ضرورت ہے، مگر ایسی برآمدات کی نہیں جو صرف چند خاندانوں اور بڑے گروہوں کیلئے ریاستی مراعات کا مستقل ذریعہ بن جائیں۔
حقیقی ترقی تب ہوگی جب برآمدی معیشت کے مرکز میں صرف ایکسپورٹر نہیں بلکہ مزدور، چھوٹا پیداواری یونٹ اور صنعتی انصاف بھی شامل ہوگا۔ ورنہ “ایکسپورٹ” کا نعرہ دیگر اقدامات کی طرح محض ایک اور “ایلیٹ ٹرانسفر” بن کر رہ جائے گا

