ستارہ اور تمغا امتیاز پانے کے ’سفارش یافتہ‘ پہلے اور آخری صحافی، امتیاز احمد وریاہ کا کالم
ہمارے دیرینہ دوست ، خبریں اسکول آف تھاٹ کے دنوں کے رفیق کار اور مشقتی شاہزاد انور فاروقی بڑے کایاں صحافی ہیں۔لوگ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے ہیں مگر ہم مشقتی صحافی میڈیا اداروں کے گھاٹ گھاٹ کی ’’بھوک‘‘ کاٹتے ہیں۔ان جدید ، چکا چوند’’خرکار کیمپوں‘‘ میں کئی کئی ماہ کی تن خواہوں سے محروم رہتے ہیں تو اس پر صبرو شکر کرلیتے ہیں ، لیکن اصل المیہ تو اس وقت ہوتا ہے جب کبھی سرکار حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کو آتی ہے تو اس کی ’عدل گستری‘ ہم سے سنبھلے نہیں سنبھلتی۔کیوں، اس کے سامنے وہی سدابہار چار پانچ چہرے ہوتے ہیں، مجال ہے اِدھر سے اُدھر نظر چلی جائے۔ چلیں، اگر کم ہیں تو اب دس، گیارہ کرلیں۔
سرکار ہرسال 14 اگست کو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کارہائے نمایاں انجام دینے والی شخصیات کو تمغا امتیاز، تمغا حسنِ کارکردگی ،نشانِ امتیاز وغیرہ عطا کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ایسے خوش نصیبوں کی ان کے پیشے کے حساب سے کئی کئی خانوں پر مبنی فہرستیں جاری کی جاتی ہیں جن میں شامل افراد میں نصف تک تو انیس بیس کے فرق سے مستحق ہی ہوتے ہیں مگر باقی شامل باجا اور اربابِ اقتدار کے منظورِ نظر۔ان کے نام شامل کرنے کے لیے تانگے کی سواریوں کی طرح ’کو چوانی ترکیب‘ لڑائی جاتی ہے اور تانگے کا ’’بھار یا وَتَربرابر‘‘ کرنے کے لیے ہما شما کو بھی اعزازت سے نواز دیا جاتا ہے۔ کوئی اس عمل کو’’ اندھا بانٹے ریوڑیاں ہر پھر کے اپنو ں ہی کو دے‘‘،کے مصداق قرار دیتا ہے تو کوئی تمغا ہائے چاپلوسی کہتا ہے۔اس پر ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ کیسے کیسے ناہنجار اور بے ذوق لوگ ہمارے یہاں رہتے ہیں۔انھیں کسی کی خوشی راس ہی نہیں آتی۔خوشی سے باچھیں کھلتی ہیں اور نہ دل میں لڈو پھوٹتے ہیں۔ عجیب بے حس لوگوں سے پالا پڑا ہے۔
اوہ ،یہ تو جملہ معترضہ تھا اور بات کہاں سے کہاں چلی گئی اور کسی کتاب کا دیباچہ ہوگیا۔خیر ،جناب فاروقی نے شکر الحمد للہ لکھ کر اعزازات کے مستحق قرار دیے گئے صحافیوں کی فہرست ایک پوسٹ میں جاری کی۔ ’’کتاب چہرہ‘‘ کھولتے ہی سب سے پہلی نظر ان کی پوسٹ پر پڑی۔
شکرالحمدللہ ۔ پڑھ کر ایک دم دل خوشی سے سرشار ہو گیا، آنکھیں چمک اٹھیں کہ چلو ہمارے ایک دیرینہ مستحق دوست کو حق ملا، گویا حق بہ حق دار رسید ہو گیا کیونکہ ساتھ شکر سے توثیق کی گئی تھی لیکن جب فہرست دیکھی تو اس میں ان کا تو سرے سے نام ونشان تک نہیں تھا۔پھر ہم نے ان کی پوسٹ پر تبصرے میں کہا کہ آپ نے ہماری خوشیوں کا خون کیا ہے،اس لیے آپ پر جرمانہ بنتا ہے۔ ہمارے ایک اور دیرینہ بزرگ دوست مشہور زمانہ بابا احمد لطیف نے لکھا، ’’وہ تو تمغا نہ ملنے پر شکر ادا کررہے ہیں۔‘‘
ہم ٹھہرے بھولے بھالے ،سیدھے سادے شہراقتدار میں پینڈو کے پینڈو۔ ہم نے خوش نصیب صحافیانِ وطن کی فہرست ملاحظہ کی۔ہمارے پیشہ صحافت کے مشہور ومعروف صحافی جناب صالح ظافر کا نام ستارہ ٔامتیاز پانے کے مستحق سفارش کنندگان میں سرفہرست تھا۔ ہمیں جھٹکا لگا۔ یہ صالح بھائی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگئی۔انھیں توان کی شاندارصحافتی خدمات کے صلے میں اعلیٰ ترین اعزاز ’’نشان حیدر‘‘ سے نوازا جانا چاہیے تھا۔ اس مقصد کے لیے اگر پارلیمان سے ترمیم وغیرہ کی ضرورت پیش آتی ہے تو حکومت کو یہ بھی کرگزرنی چاہیے۔آخر 27،26 ترمیمیں تو وہ آئین میں کرچکی ہے۔ صالح بھائی کا فہرست میں پہلے نمبر پر نام لکھنے سے سارے دلدر دور تو نہیں ہوتے۔آخر ان ایسا آزمودہ کار، سردوگرم چشیدہ مایہ ناز صحافی کہاں ملے گا۔اپنی ’حیاتِ صحافت‘ میں انھوں نے کئی وزراء اعظم اور صدور کے گھاٹوں کا پانی پی رکھا ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) میں ان کے نا م کی گونج ہے۔حتیٰ کہ اس کے فیض یافتگان کی فہرست میں شامل ان کا نام عدالتِ عظمیٰ تک پہنچا ہوا ہے۔
آپ مذاق سمجھ رہے ہیں کیا؟ بھائی جان ،ہمارا آپ کا کوئی مذاق نہیں۔ آپ بھول چکے ہیں، حافظہ ساتھ نہیں دے رہا تو ہمارا قصور؟ تو جانیے، یہ صالح ظافر ہی ہیں جن کی تفتیشی اور تحقیقاتی صحافت ہر حکومت کے جانے اور ہرنئی حکومت کے آنے کے وقت بروئے کارآتی ہے ۔وہ ایسے مواقع پر شاندار، جاندار اور سدابہار زندہ کہانیاں سامنے لاتے ہیں۔ان کے اندوختے میں ایسا ایسا نادر ونایاب’’مال‘‘ ہے کہ کوئی دوسرا صحافی کیا جانتا ہوگا۔وہ جانے بھی کیونکر، یہ مال تو صرف چند ایک خوش نصیبوں ہی کو ’’عطائے ماخذ‘‘ سے ملتا ہے۔وہ ایسے الفاظ وتراکیب کاچناؤ کرتے ہیں کہ صاحب اقتدار کوئی بھی ہو،اس سے ان کی ہجو اور مدح سرائی کی صفت پر کچھ فرق نہیں پڑتا۔
جانتے ہو،یہ صالح ظافر ہی تھے ، جنھوں نے ہمیں بتایا تھا کہ 12 اکتوبر 1999ء کو میاں نواز شریف کی دوسری حکومت ختم ہونے کے بعد وزیراعظم ہاؤس کے کس بیڈ سے کون سی اور کتنی مقدار میں قوت بخش حُبوب برآمد ہوئی تھیں۔ کس بستر پر کون سا رنگ چڑھا ہوا تھا۔ وغیرہ ۔اب بھی وہی ہمیں اندر کی خبر وں سے باخبر رکھتے ہیں۔ان ایسی صحافت کوئی مشقتی کہاں کرسکتا ہے۔وہ تو بے چارہ سیدھی سیدھی منشی گیری کرتا ہے۔
اب آپ کہیں گے، یہ لکھاری بھی عجیب شخص ہے، ملک کے ایک ہی ممتاز صحافی کا قصہ سنانے بیٹھ گیااور باقی خوش نصیبوں کا کچھ نہیں بتا رہا۔ایک مرتبہ پھر فہرست پر نظر دوڑاتے ہیں ۔درمیان والے سارے نام چھوڑ دیتے ہیں کہ اہلِ وطن ان کے چہروں ، خامہ فرسائیوں اور گل افشانیِ گفتار سے آگاہ ہیں۔ بالکل آخر میں ایک نیا، ناآشنا سا نام نظر نواز ہوا۔تمغا امتیاز کے لیے سفارش کردہ گیارھویں نمبر پر جناب تصور عرفات کا اسم گرامی موجودہے۔ہم نے اپنی بے خبری کو کوسنے دیے۔ بڑے میاں، تمھارے شہر میں اتنا بڑا صحافی ’پروان ‘ چڑھ گیا ،صحافت (ابلاغ عامہ) میں اگلا تمغا امتیاز بھی آیندہ 23 مارچ 2027ء کو اپنے گلے میں سجانے کو ہے اور تمھیں اس کے بارے میں ککھ پتا ہی نہیں۔ اپنی بے خبری اور علمی بے بضاعتی پر کفِ افسوس مل ہی رہے تھے اوراسی ادھیڑ بن میں تھے کہ یہ عفیف کب شہراقتدار میں پیشہ صحافت میں وارد ہوئے ۔کس میڈیا ادارے سے وابستہ ہیں۔ رپورٹر ہیں تو کون سی بیٹ کرتے ہیں۔سب ایڈیٹر، کاپی ایڈیٹر یا نیوز ایڈیٹر ہیں تو کس ادارے میں؟ کوئی اینکر شینکر ہیں تو کس ٹیلی ویژن چینل پر سرِ شام نمودار ہوتے ہیں یا اے بی سی تصدیق شدہ کسی روزنامہ ’’پھتو ٹائمز‘‘ کے ایڈیٹر ہیں جس کا سال، چھماہی کے بعد دیدارِ عام ہوتا ہے، وہ بھی پی آئی ڈی کی ویب گاہ پر اخبارات کی حاضری کی فہرست میں۔
وہ اس کو کیا کہتے ہیں، فیڈ۔ اس کو اسکرول ڈاؤن کیا تو پتا چلا،حضرت تصور عرفات سرکاری ملازم ہوتے ہیں اور وایا بٹھنڈا پی ٹی وی پہنچے ہیں۔ شاید وزیراطلاعات جناب عطاء اللہ تارڑ کے ساتھ قوم کو حکومت کی سرگرمیوں کی اطلاعات بہم پہنچانے کی خدمات انجام دیتے ہیں ۔ہم نے دماغ پر تھوڑا زور ڈالا کہ انھیں پھر صحافیوں کے زمرے یا کوٹے میں کیوں تمغا امتیاز سے نوازا جارہا ہے۔اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آ سکی ،شاید جن صحافیوں کے کاغذات کا پلندا سرکار کو پہنچا، وہ دس ہی تھے، باقی ناموں پر غور کرنےکی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ورنہ انعامات واعزازت کے مستحق صحافی تو دسیوں ، بیسیوں ہیں۔ اس لیے سرکار نے سوچا لگے ہاتھوں اپنا بندہ اسی فہرست میں اڑس دیتے ہیں۔وہ بھی تو دوسرے صحافیوں کی طرح سرکاری مواد ہی کی تشہیر کرتا ہے۔اگر کوئی اعتراض کرتا ہے یا اعتراضات کی بھرمار ہوگئی توکہیں گے غلطی ہوگئی لیکن کون جیتا ہے، تیری زلف کے سر ہونے تک۔
اللہ اللہ ، خیر سلّا۔
لیکن یہ کہہ کر بات ختم نہیں ہوئی۔ صالح بھائی سے زیادتی پر ہمارا احتجاج برقرار ہے۔

