حقِ دفاع کا استعمال کرنے والوں کو موردِ الزام ٹھہرانا ’منافقت‘ ہے: ایران
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’یورپی یونین کا حقِ دفاع کا استعمال کرنے والوں کو موردِ الزام ٹھہرانا ’منافقت ہے۔‘
سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ایران کی جانب سے ہمسایہ مُمالک میں امریکی فوج کی تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنانا حقِ دفاع کے ذمرے میں آتا ہے کیونکہ یہ وہی مقامات ہیں کہ جنھیں ایران کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’یورپی یونین کو قانون کی حکمرانی اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اُن اصولوں پر قائم رہنا چاہیے جن کا وہ طویل عرصے سے دعویٰ کرتی آئی ہے۔‘
اسماعیل بقائی نے کہا کہ یورپی یونین کو چاہیے کہ ’جارح قوتوں کو خوش کرنے کے بجائے اُن ممالک کو موردِ الزام ٹھہرانا بند کرے جو غیر قانونی حملوں کا جواب دیتے ہیں اور اپنا حقِ دفاع استعمال کرتے ہیں۔‘
اُن کی جانب سے بیان میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ’ایران کی جانب سے اُن اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بنانا، جو ایران پر غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہے۔‘
اسماعیل بقائی کا اپنے بیان کے آخر پر کہنا تھا کہ ’ریاستوں پر یہ واضح قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا اثاثوں کو کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔‘