اہم خبریں

عراق میں‌ کرد نسل کی ایرانی پارٹیوں کے دفاتر پر تہران کے میزائل حملوں سے تباہی

جون 1, 2026

عراق میں‌ کرد نسل کی ایرانی پارٹیوں کے دفاتر پر تہران کے میزائل حملوں سے تباہی

عراق میں‌ مقیم ایرانی کرد جماعت کوملہ ژامشکان پارٹی کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے گزشتہ شب مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے عراقی کردستان میں واقع پارٹی کے مرکزی ہیڈکوارٹر پر دو میزائل حملے کیے۔

پارٹی کے رہنما امجد حسین پناہی نے اپنی فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ ان حملوں میں خالدان کے علاقے میں واقع آلانہ وادی میں پارٹی کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسلامی جمہوریہ ایران عراقی کردستان میں موجود اس ایرانی کرد جماعت کے ٹھکانوں پر 81 سے زائد میزائل اور ڈرون حملے کر چکا ہے۔

دوسری جانب اربیل میں قائم ایک اور ایرانی کرد تنظیم، کردستان فریڈم پارٹی نے بھی اعلان کیا ہے کہ گزشتہ روز علی الصبح ایران کا ایک میزائل شہر کے قریب واقع اس کے ایک اڈے سے ٹکرایا۔

پارٹی کے ترجمان کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد سے ان کی جماعت کے ٹھکانوں پر 50 سے 60 مرتبہ حملے کیے جا چکے ہیں۔

ان دعوؤں کے حوالے سے ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ ایرانی کرد جماعت کوملہ ژامشکان پارٹی ایران کی ایک کرد سیاسی و مسلح تنظیم ہے جو کئی دہائیوں سے ایران کے کرد علاقوں میں سیاسی حقوق، خودمختاری اور سماجی آزادیوں کے مطالبات کرتی رہی ہے۔

یہ تنظیم ایران کے اندر ممنوع ہے، اس لیے اس کی مرکزی قیادت اور کیمپ زیادہ تر عراقی کردستان میں موجود ہوتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے