ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے شراکت دار اور نہ ہی پابند ہیں: اسرائیلی وزیر
اسرائیل کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر تاحال باضابطہ طور پر بیان سامنے نہیں آیا تاہم اسرائیلی حکومت بظاہر اس سے خوش نہیں۔
اسرائیل کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے اس معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم اس معاہدے کے شراکت دار نہیں جو ہماری سلامتی کو یقینی نہیں بناتا، اور نہ ہی یہ ہمیں کسی طور پابند کرتا ہے۔‘
اُنھوں نے لبنان سے تعلق رکھنے والے اس مسلح سیاسی گروپ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو ’حزب اللہ کے خاتمے‘ سے کم کسی چیز پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’لبنان سے اسرائیل کی جانب بھیجا جانے والا ہر ڈرون، بغیر پائلٹ طیارہ یا میزائل داحیہ میں اسرائیلی حملے کا باعث بنے گا۔‘
بن گویر اکثر اپنی ہی حکومت پر تنقید کرتے رہے ہیں اور برطانیہ اور دیگر ممالک کی جانب سے اُن پر ’فلسطینیوں کے خلاف بار بار تشدد پر اکسانے‘ کے الزامات کے تحت پابندیاں بھی عائد کی جا چکی ہیں۔

