سوڈان میں بھوک ختم کرنے کے بدلے اپنی ’جنسی بھوک‘ مٹائی، عالمی تنظیم کا اعتراف
بین الاقوامی شہرت یافتہ غیرسرکاری طبی امدادی تنظیم ’ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ (ایم ایس ایف) نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے عملے پر کم از کم 59 سوڈانی پناہ گزینوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات لگے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کچھ واقعات میں کم عمر لڑکیوں کا استحصال کیا گیا۔ الزام ہے کہ جنسی تعلق کے بدلے خوراک یا ملازمت کی پیشکش کی جاتی تھی۔
یہ جرائم سوڈان میں جاری خانہ جنگی شروع ہونے کے تقریباً ایک سال بعد مشرقی چاڈ میں سنہ 2024 میں پیش آئے تھے۔
ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ اس نے اُن 18 افراد کو ملازمت سے برطرف کیا جن پر الزامات لگے۔ تاہم تنظیم نے خبر ایجنسی کو بتایا کہ بعض دیگر مبینہ ملزمان کی شناخت نہیں ہو سکی۔
ایم ایس ایف کی رپورٹ کے مطابق استحصال کے ایسے طریقے اپنائے گئے جو ممکنہ طور پر ’جنسی سمگلنگ‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کچھ متاثرین نے اس خوف کے باعث خاموشی اختیار کی کہ کہیں انھیں امداد تک رسائی سے محروم نہ کر دیا جائے۔
عالمی طبی تنظیم نے اعتراف کیا ہے کہ جن افراد نے شکایت کی، انھیں بعض اوقات کوئی مدد نہیں ملی، جبکہ باضابطہ شکایتی طریقہ کار مسئلے کو حل کرنے میں زیادہ تر ناکام ثابت ہوا۔
ایم ایس ایف نے اے پی کو بتایا کہ یہ غلط طرزِ عمل تنظیم کی اقدار اور ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور انھیں اس سے پہنچنے والے نقصان پر بہت افسوس ہے۔
تین برس قبل اپنی سوڈانی فوج اور طاقتور نیم فوجی گروہ ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان شدید اقتدار کی کشمکش کے بعد سے سوڈان خانہ جنگی کا شکار ہے۔
سوڈان کے بحران کو دنیا کا بدترین انسانی بحران تصور کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں جبکہ دو کروڑ 80 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔
اس تنازع میں ہونے والی ہلاکتوں کی درست تعداد معلوم نہیں تاہم اندازہ ہے کہ کم از کم ڈیڑھ لاکھ سے چار لاکھ کے درمیان سوڈانی لقمہ اجل بنے-