کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے 150 رہنماؤں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت نے کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 150 سے زائد رہنماؤں اور سرکردہ کارکنوں کے نام انسداد دہشت گردی قانون کی دفعہ چار (فورتھ شیڈول) فہرست میں شامل کیے ہیں۔
فورتھ شیڈول میں شامل افراد کے شناختی کارڈ اور بینک اکاونٹس بلاک کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے زیرِ استعمال پاسپورٹ کو بھی بلا کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ بیرون ملک سفر نہیں کر سکتے۔
اس قانون کے تحت کوئی بھی شخص انتظامیہ کی پیشگی اجازت کے بغیر اپنا علاقہ نہیں چھوڑ سکتا۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے پاکستانی وزارت داخلہ کو ستر سے زائد افراد کی فہرست بھجوائی تھی جن کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق اس تجویز کو متعلقہ کمیٹی کو بھجوایا گیا ہے۔
ادھر راولاکوٹ میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم کا احتجاج جاری ہے اور ہزاروں افراد روزانہ دھرنے کے مقام پر بیٹھتے ہیں-
مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تاحال مظاہرین کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہیں کی گئی۔
ابتدائی دنوں کی فورسز کی کارروائی میں 13 افراد کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی تھی جن میں پولیس اہلکار بھی شامل تھے-
حکومت کی جانب سے ابھی تک مظاہرین یا ان کی قیادت سے کسی قسم کے مذاکرات کے آثار نظر نہیں آتے اور مقامی انتظامیہ پاکستان کے طاقتور حلقوں کی جانب دیکھ رہی ہے-

