اہم

ایرانی صدر کی پاکستانی وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس، صدر اور آرمی چیف سے ملاقاتیں

جون 23, 2026

ایرانی صدر کی پاکستانی وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس، صدر اور آرمی چیف سے ملاقاتیں

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا ثالثی کردار جاری رکھنا چاہتا ہے جب تک دیرپا امن حاصل نہ ہو جائے۔

اسلام آباد میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران شہباز شریف نے ایران کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’میری طرف سے رہبر اعلیٰ تک یہ پیغام پہنچائیں کہ ایران نے وقار کے ساتھ جنگ بندی اور امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت حاصل کی ہے۔‘

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کے دورے کے دوران اپنے پاکستانی ہم منصب اور قیادت کے ساتھ ملاقاتوں اور مشترکہ رابطوں کو سراہتے ہوئے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کو منفرد، قریبی اور برادرانہ قرار دیا ہے۔

ایرانی صدر نے اپنی گفتگو کا آغاز مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبال کے شعر سے کیا اور کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات منفرد نوعیت کے حامل ہیں۔

انھوں نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے شاندار استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیں اپنا ’بھائی‘ قرار دیا اور ان کی دعوت پر اظہارِ تشکر کیا۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان صرف ایران کا ہمسایہ ملک نہیں بلکہ ایک بھائی اور عزیز دوست ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد اور تہران کے درمیان تعلقات قریبی اعتماد اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران ’یک جان دو قالب‘ ہیں اور دونوں ممالک مشترکہ مستقبل اور منزل کے شراکت دار ہیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو مل کر آگے بڑھنا ہے تاکہ خوشحال اور مشترکہ مستقبل تشکیل دیا جا سکے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ماضی قریب میں ہونے والے واقعات نے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کو نئی جہت دی ہے، اور اس کے باوجود تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے جس کے وہ معترف ہیں۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط پاکستان کی کوششوں سے ممکن ہوئے، اور اس عمل میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔

پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنا کردار جاری رکھیں جب تک ایک مستقل اور دیرپا امن قائم نہ ہو جائے۔‘

دوسری جانب پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ایوانِ صدر میں ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات، علاقائی امن و سلامتی، روابط، اقتصادی تعاون اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی صدر کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی، صدر کے دفتر کے چیف محسن حاجی میرزائی، وزیر داخلہ اسکندر مومنی، سیاسی امور کے سربراہ سعید عباس موسوی اور پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم بھی موجود تھے۔

ادھر پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں علاقائی صورتحال اور امن کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیان کے مطابق ایرانی صدر نے مکالمے کے فروغ، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی چیلنجز کے دوران پاکستان نے تنازعات کے پرامن حل اور علاقائی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔

اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں فریقین نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے