اہم

احتجاجی تحریک، پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں‌ اشیائے ضروریہ کی قلت

جون 24, 2026

احتجاجی تحریک، پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں‌ اشیائے ضروریہ کی قلت

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی احتجاجی تحریک جاری ہے اور اب علاقے کے عوام اشیائے خورو نوش تک رسائی مشکل ہونے کی شکایت کر رہے ہیں-

مقامی رہائشیوں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان سے اُن کے علاقے میں‌ داخلے کے وقت پولیس اہلکار کھانے کی اشیا اور ادویات لے جانے کی اجازت نہیں‌ دیتے-

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے ہڑتال کر رکھی ہے جسے دو ہفتوں سے زیادہ ہو چکا ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے علاقےطے کے تر حصوں میں کاروباری سرگرمیاں بند ہیں۔

گزشتہ چند دنوں سے ایسی اطلاعات آ رہی ہیں کہ باہر سے خوراک اور پیٹرول لانے والی گاڑیوں کو ریاستی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔ اس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو روزمرہ ضرورت کی اشیا کی قلت کا سامنا ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ اگر لوگ اپنی ذاتی گاڑیوں میں محدود سامان لے جانے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں بھی روکا جا رہا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عام شہریوں اور مظاہرین کی جانب سے حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی جا رہی ہے۔

کالعدم قرار دی گئی ایکشن کمیٹی کے تین رہنماؤں اور بعض سرکردہ کارکنوں نے ویڈیو بیانات جاری کر کے احتجاجی تحریک سے کنارہ کشی بھی اختیار کی تاہم مقامی لوگ اس کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں-

دھرنے کا مرکز تو راولاکوٹ شہر ہے تاہم شمال میں‌ وادی نیلم کو جانے والی سڑک بھی بند ہے اور مظاہرین کی بڑی تعداد دن کے وقت وہاں موجود ہوتی ہے جن میں‌ خواتین اور بچے بھی ہیں-

پاکستان کو کشمیر سے دارالحکومت مظفرآباد سے جوڑنے والی مرکزی شاہراہ پر کوہالہ پُل کے قریب پنجاب کی حدود میں اشیائے ضروریہ سے لدے درجنوں کھڑے گزشتہ چار دنوں سے کھڑے ہیں-

ڈرائیورز کے مطابق اُن کو پنجاب پولیس نے آگے جانے سے روک رکھا ہے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے