ایران جنگ کی ’ہنگامی ضروریات‘، صدر ٹرمپ کا کانگریس سے 87 ارب ڈالر جاری کرنے کا مطالبہ
وائٹ ہاؤس نے امریکی کانگریس کے ارکانِ سے 87.6 ارب ڈالر (66.5 ارب پاؤنڈ) کی منظوری کا مطالبہ کیا ہے جس کا بڑا حصہ ایران کے خلاف امریکی جنگ سے جڑی ’ہنگامی ضروریات‘ کے لیے مختص ہے۔
یہ مطالبہ کانگریس کی جانب سے ایک قرارداد کی منظور کے بعد سامنے آیا ہے جس میں فوجی کارروائی پر تنقید کی گئی تھی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس فنڈنگ میں سے 67 ارب ڈالر محکمۂ دفاع کے لیے ہے جس میں 21 ارب ڈالر اسلحہ و گولہ بارود، 17.3 ارب ڈالر آپریشنل اخراجات اور 12.1 ارب ڈالر خفیہ پروگراموں کے لیے رکھے گئے ہیں۔
باقی رقم غیر متعلقہ اقدامات کے لیے ہے جن میں 11 ارب ڈالر امریکی کسانوں کے لیے اور 1.4 ارب ڈالر وسطی افریقہ میں ایبولا کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے شامل ہیں۔
تاہم اس تجویز کو کانگریس میں سخت مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ ایران کے ساتھ تنازع ووٹرز میں غیر مقبول ہے اور رواں سال نومبر میں وسط مدت ہونے جا رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ نے بدھ کے روز ایوانِ نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن کو ایک خط کے ذریعے اس فنڈ کی باضابطہ درخواست بھیجی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ’اس درخواست کا زیادہ تر حصہ آپریشن ایپک فیوری ے متعلق ہنگامی ضروریات کو پورا کرے گا‘۔ ایران کے خلاف فروری کے اواخر میں شروع کی جانے والی جنگ کو آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا گیا تھا۔
اس درخواست میں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امریکی سفارت خانوں اور سفارتی مراکز کی سکیورٹی بڑھانے کے لیے تقریباً 30 کروڑ ڈالر بھی شامل ہیں۔ جنگ کے دوران ان میں سے بعض مقامات پر حملے کیے گئے تھے۔

