دبئی میں بوائے فرینڈ کا قتل کرنے والی برطانوی انفلوئنسر کو ’فائرنگ سکواڈ‘ کا سامنا
ایک نوجوان برطانوی سوشل میڈیا انفلوئنسر جو مبینہ طور پر اپنے بوائے فرینڈ کے قتل کے الزام میں دبئی میں زیرِحراست ہیں، نے کہا ہے کہ وہ خود پر حملے کے بعد دفاع کر رہی تھیں جب قتل ہوا۔
اُن کا دفاع کرنے والے انسانی حقوق کے گروپ Detained in Dubai کی رپورٹ کے مطابق بروک جارج، 23 سالہ، جو برطانیہ کے علاقے کینٹ، گریوسینڈ سے ہیں اور پہلے جان لوئیس میں کام کر چکی ہیں، پر ایک 26 سالہ مرد کی موت کے سلسلے میں منصوبہ بندی کے تحت قتل کا الزام ہے، جس سے وہ انٹرنیٹ کے ذریعے ملیں-
اس گروپ کو خدشہ ہے کہ خاتون انفلوئنسر کو قتل کے جرم میں فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے سزائے موت دی جا سکتی ہے-
کینٹ آن لائن کی رپورٹ کے مطابق بروک جارج ٹک ٹاک انفلوئنسر ہیں اور ان کے 98,000 سے زیادہ فالوورز ہیں۔
بروک جارج کو 22 جون کو گرفتار کیا گیا اور اب وہ بر دبئی پولیس اسٹیشن میں رکھی گئی ہیں، یہی وہ جگہ تھی جہاں 2011 میں ایک برطانوی سیاح حراست میں موت کے منہ میں چلا گیا تھا۔
ڈیلی میل اور کنیٹ آن لائن کی رپورٹس کے مطابق وہ مرد جس کے قتل کا الزام بروک جارج پر ہے، ولیم ‘بل’ ٹریبی، 26 سالہ، وہ بھی کینٹ سے ہی ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بروک نے اس مرد سے فیس بک پر دبئی جانے سے پہلے ملاقات کی تھی، تاہم دوسری ملاقات میں اُن کے درمیان تلخی بڑھی اور خاتون انفلوئنسر کو لگا کہ شاید اُن کو جنسی کاروبار کے لیے لایا گیا ہے-

