ضلع بنوں میں ایمبولینس پر فائرنگ سے چار ہلاک، شناخت نہ ہوسکی
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایمبولینس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چار اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔
ضلع میں کام کرنے والے ریسکیو اہلکاروں نے بتایا کہ انھیں صبح چھ بجے اطلاع موصول ہوئی کہ بنوں کے سرکلر روڈ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد فوری طور پر ایمبولینس روانہ کر دی گئی۔
ان کے مطابق سڑک پر ایک نجی ایمبولینس میں چار لاشیں پڑی تھیں جنھیں ہسپتال منقتل کر دیا گیا۔
بنوں کے ریجنل پولیس افسر رب نواز خان نے واقعے کی تصدیق کی تاہم کہا کہ فوری طور پر لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی۔
ڈسٹرکٹ ہسپتال بنوں میں پولیس اہلکاروں نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے ایک نجی ایمبولینس پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس میں سوار چار افراد ہلاک ہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی شناخت اور واقعے کے بارے میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
بنوں میں ایک عرصے سے حالات کشیدہ ہیں۔ گذشتہ ہفتے بنوں کے علاقے ڈومیل کے ایک گاؤں میں مسافر گاڑی پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا گیا اور بعد میں زخمیوں کو جس گاڑی میں ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا اس پر بھی حملہ کیا گیا۔
ان دونوں واقعات میں سات افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے تھے۔
صوبے کے جنوبی اضلاع لکی مروت اور بنوں میں پولیس پر پے در پے حملوں کے بعد ان علاقوں میں پولیس امن کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں اور ان کمیٹیوں نے شدت پسندوں کے خلاف مختلف کارروائیاں بھی کی ہیں۔
صوبے کے جنوبی اضلاع میں پولیس پر حملوں کے علاوہ سرکاری ملازمین اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کے اغوا کے واقعات بھی پیش آ رہے ہیں۔
جنوبی وزیرستان اپر میں دو روز قبل اغوا کیے گئے چھ پولیس اہلکاروں کو مقامی قبائلی عمائدین نے مسلح شدت پسندوں بات چیت کے بعد بازیاب کرا لیا ہے۔
ضلعی پولیس افسر ارشد خان کے مطابق تمام اہلکاروں بازیاب کیے جانے کے بعد پولیس لائن وزیرستان پہنچے ہیں۔

