’آپریشن سندور‘ اور ’بنیان المرصوص‘ میں کس ملک کے کتنے فوجی مارے گئے تھے؟
انڈیا میں مودی حکومت نے پاکستان کے خلاف آپریشن سندور کے جواب میں بنیان المرصوص کے دوران مارے جانے والے فوجیوں کے نام 400 دن گزرنے کے بعد سرکاری طور پر جاری کر دیے ہیں۔
مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان میں ہونے والی فضائی جھڑپوں کے لگ بھگ ایک سال بعد پہلی بار اپنی مسلح افواج کے اُن چھ اہلکاروں کے نام ظاہر کیے ہیں جن کی ہلاکت اس تنازع کے دوران ہوئی تھی۔
دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے دعوے کیے گئے جبکہ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی کے دوران انڈیا کے جنگی طیارے بھی تباہ ہوئے تھے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے 13 مئی کو بتایا تھا کہ ان کارروائیوں میں پاکستانی مسلح افواج کے 11 اہلکار ہلاک ہوئے جن میں چھ کا تعلق بری فوج جبکہ پانچ کا پاکستانی فضائیہ سے تھا۔
پاکستان کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کی شناخت ظاہر کرنے کے بعد انھیں اگست 2025 میں فوجی اعزازات سے بھی نوازا گیا تھا۔
اب 26 جون 2026 کو پہلی بار انڈین حکومت نے اس فوجی تنازع کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے فوجی اہلکاروں کے نام ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ ’آپریشن سندور‘ میں ہلاک ہوئے۔ اس حوالے سے چھ ناموں کی فہرست نیشنل وار میموریئل کی ویب سائٹ پر ’رول آف آنر‘ میں شائع کی گئی ہے۔
ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں میں ہیڈکوارٹر 10 انفنٹری بریگیڈ کے صوبیدار میجر پاون کمار، 4 جموں اینڈ کشمیر لائٹ انفنٹری کے رائفل مین سنیل کمار (جنھیں ویر چکرا سے نوازا گیا)، 5 فیلڈ ریجیمنٹ کے لانس نائیک دنیش کمار، 851 لائٹ ریجیمنٹ کے ایوی ایشن ٹیکنیشن موڈ مرلی نائیک اور 237 فیلڈ ورکشاپ کمپنی کے حولدار سنیل کمار سنگھ شامل ہیں۔
مختصر عرصے کی اس جنگ کے دوران دونوں طرف شہری اموات بھی ہوئی تھیں جن میں زیادہ تر کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر تھیں جبکہ چند شہری ڈرونز کے گرنے سے بھی مارے گئے-