’تشدد کا مقابلہ تشدد‘ سے، امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کے دعوے
امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر بڑھتی کشیدگی پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ’تشدد کا مقابلہ تشدد‘ سے کیا جائے گا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے ایران پر حملے کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ ’ایران نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تو ہم نے اسے عزت دی، اگر انھیں ایم او یو سے متعلق کوئی اختلاف ہے تو وہ ہمیں بتا سکتے ہیں۔ لیکن تشدد کا مقابلہ تشدد سے کیا جائے گا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکہ کی قیادت کرتے رہے ہیں۔ اپریل میں اسلام آباد اور پھر چند روز قبل سوئٹزرلینڈ میں بھی اُنھوں نے ایران کے ساتھ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کیے تھے۔
جمعرات کو آبنائے ہرمز میں عمان کے ساحلی پانیوں میں ایک جہاز پر حملہ ہوا تھا، جس کا ذمہ دار امریکہ نے ایران کو ٹھہرایا۔
ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ جہاز آبنائے ہرمز کے ’غیر منظور شدہ‘ روٹ سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کارگو جہاز سے ایک ڈرون ٹکرایا تھا لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کم از کم چار ‘یکطرفہ حملہ آور ڈرونز’ داغے، ٹرمپ نے ایرانی ڈرون حملے کو جنگ بندی معاہدے کی ‘احمقانہ خلاف ورزی’ قرار دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرنے کے چند ہی گھنٹوں بعد امریکہ نے ایران میں اہداف پر فضائی حملے کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جمعے کی شب اعلان کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے میزائل اور ڈرون سٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ اور فضائیہ نے ایران کے شہر سیریک پر ہونے والے امریکی حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے ‘حملہ آور افواج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔’ پاسداران انقلاب نے اس کا ’تیز‘ اور ’فیصلہ کن‘ جواب دینے کا اعلان کیا۔
سنیچر کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے ایرانی ساحلوں پر امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ اہداف کے مقام، حملے کی نوعیت یا ممکنہ نقصانات کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

