امریکی حملے مفاہمتی یادداشت کی ’کھلی خلاف ورزی‘ ہے: ایرانی وزارتِ خارجہ
ایران کا کہنا ہے کہ امریکی حملے دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی ’کھلی خلاف ورزی‘ ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی ساحلی نگرانی کی تنصیبات پر امریکی حملہ نہ صرف اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل دو کی شق چار کی واضح خلاف ورزی ہے بلکہ 18 جون کو جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت کی شق 1 کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کی ذمہ داری امریکہ اور اس کے اُن تمام فریقوں پر عائد ہوتی ہے جو کسی بھی طرح ایران کے خلاف امریکہ کی جارحانہ کارروائیوں میں تعاون کر رہے ہیں۔
جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے میزائل اور ڈرون سٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
بعد ازاں پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ اور فضائیہ نے ایران کے شہر سیریک پر ہونے والے امریکی حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے ’حملہ آور افواج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔‘

