سعودی آرامکو کی رأس تنورہ ٹرمینل پر خام تیل کی لوڈنگ چار ماہ بعد دوبارہ شروع
سعودی عرب کی تیل کمپنی سعودی آرامکو نے تقریباً چار ماہ کے وقفے کے بعد جمعہ کو خلیج فارس میں واقع رأس تنورہ ٹرمینل پر خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس کی تصدیق شپنگ ڈیٹا سے ہوئی ہے۔
سعودی تیل برآمدات کی بحالی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تائیوان کی کمپنی ایورگرین کے ایک جہاز پر جمعرات کو آبنائے ہرمز میں حملہ ہوا تھا۔
مشرقِ وسطیٰ میں تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے سے قبل اپنی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کر دیا تھا۔ جنگ سے پہلے دنیا میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی 20 فیصد درآمدات آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی۔
جمعہ کو دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سعودی شپنگ کمپنی کے دو بڑے ٹینکر دنیا کی سب سے بڑی آئل پورٹ رأس تنورہ پر تیل لوڈ کر رہے تھے، جبکہ ایک اور ٹینکر ٹرمینل کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ایک چوتھا ٹینکر قریبی علاقے میں انتظار کر رہا تھا۔
ان میں سے ہر ایک ٹینکر تقریباً بیس لاکھ بیرل تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آرامکو نے روئٹرز کو اس بارے میں کوئی بھی تبصرہ دینے سے انکار کر دیا۔
دوسری جانب برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) نے ایک کارگو جہاز پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو حفاظت فراہم کرنے کے آپریشنز معطل کر دیے ہیں، جس سے ایران جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے کے قابلِ عمل ہونے پر خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں۔

