اہم

پاکستانی فوج کا افغانستان سے داغے گئے چار ڈرونز کو ناکام بنانے کا دعویٰ

جولائی 1, 2026

پاکستانی فوج کا افغانستان سے داغے گئے چار ڈرونز کو ناکام بنانے کا دعویٰ

پاکستان کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی شب افغان طالبان حکام کی جانب سے صوبہ بلوچستان پر داغے گئے چار سادہ نوعیت کے ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا۔

بدھ کو فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے ’بروقت‘ ان ڈرونز کی نشاندہی کی اور جوابی اقدام کرتے ہوئے اُن کو ’کامیابی کے ساتھ بے اثر‘ کر دیا۔

پاکستانی فوج کی جانب سے یہ اعلامیہ افغان وزارت دفاع کے اُس بیان کے کچھ ہی دیر بعد جاری کیا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’افغان فضائیہ نے پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع پشین اور خیبر پختونخوا کے مختلف مقامات پر داعش کے مبینہ مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔‘

افغان وزارت دفاع نے کہا کہ ’بلوچستان کے علاقے سرانان میں ایک ایسے مرکز پر فضائی حملہ کیا گیا، جسے افغانستان میں تخریبی سرگرمیوں اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔‘

اس کارروائی سے قبل اتوار (28 جون) کی شب پاکستانی فورسز نے افغانستان کے علاقوں پکتیکا، پکتیا اور کنڑ میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تین اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 25 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم افغان حکام اور افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یوناما) کا کہنا ہے پاکستانی حملوں میں دو درجن سے زائد عام شہری مارے گئے ہیں۔

ادھر پشاور کے مضافاتی علاقے حسن خیل میں مبینہ طور پر ایک کاپٹر ڈرون کا ملبہ گرنے کے نتیجے میں دو بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

کوئٹہ میں‌ بھی گرائے گئے ڈرونز کے ملبے سے دو شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے