اہم

انڈیا کے اشتعال انگیز بیانات قابلِ قبول نہیں: ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ

جولائی 1, 2026

انڈیا کے اشتعال انگیز بیانات قابلِ قبول نہیں: ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ

پاکستان نے انڈیا کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے اس بے بنیاد بیان کو مسترد کرتا ہے جس میں افغانستان میں دہشت گردوں کے ڈھانچوں کے خلاف پاکستان کے جائز، ہدفی اور متناسب اقدامات پر اعتراض کیا گیا ہے۔‘

انڈین وزارت خارجہ نے اتوار کی شب افغانستان پر کیے گئے پاکستان کے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے حملوں کو ’کھلی جارحیت، افغانستان کی خود مختاری پر حملہ اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ‘ قرار دیا تھا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’یہ پاکستان کے مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویے اور اپنی داخلی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے کے لیے سرحد پار تشدد کا سہارا لینے کی ناکام کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ انڈیا افغانستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔‘

بدھ کے روز اسلام آباد سے جاری ترجمان دفتر خارجہ کے بیان میں انڈیا کے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مضحکہ خیز بیان ایک ایسے ملک کی طرف سے سامنے آیا ہے جو ماضی میں اپنے ہمسایہ ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت میں مداخلت کرتا رہا ہے اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کرتا آیا ہے۔‘

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ’ انڈیا غیر قانونی طور پراپنے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو بھی دباتا رہا ہے، جو اقوامِ متحدہ قراردادوں کے خلاف ہے۔‘

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’انڈیا افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی نہ صرف معاونت بلکہ سرپرستی بھی کرتا رہا ہے، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ پابندیوں کے نظام کی خلاف ورزی ہے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے