’اغوا، ریپ کی گئی غیرملکی خواتین کی واپسی‘، پنجاب پولیس کی تفتیش پر سوالات
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں دو غیرملکی خواتین کی جانب سے درج کرائے گئے اغوا، ریپ کے مقدمے کی کارروائی پر معروف وکلا نے سوالات اُٹھائے ہیں-
لاہور کی کینٹ کچہری میں دو غیرملکی خواتین کو مبینہ مبینہ طور پر اغوا کرنے والے چاروں ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیے جانے کے بعد فوجداری مقدمات کے کیسز میں تجربہ رکھنے والے وکیل میاں علی اشفاق نے قانونی سقم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال کیے-
ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود نے پولیس کی درخواست پر پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ دیا۔
پولیس نے عدالت سے ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے انھیں پانچ روز کے لیے پولیس کی تحویل میں دے دیا۔
یہ مقدمہ تھانہ ڈیفنس سی پولیس نے درج کر رکھا ہے۔
پولیس نے گذشتہ روز ان خواتین کو بازیاب کروا کر چار ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔
لاہور پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ لڑکیوں کے اغوا کی اطلاع ایک لڑکی کے والد نے فون کر کے دی تھی اور بتایا تھا کہ ان سے 15 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
وکیل میاںعلی اشفاق نے ایکس پر عدالتی کارروائی کے بعد لکھا کہ دو خواتین کا مجسٹریٹ کی عدالت میں ریکارڈ کردہ بیان رونگٹے کھڑے کرنے والاہے خاص طور پر جو خاتون وینزویلا کی شہری اور متاثرہ فریق ہیں-‘
ان کا کہنا تھا کہ سنگاپور، کرپٹو، اسلام آباد، نتھیا گلی، لاہور کا بنگلہ، انسٹا گرام پروفائل، خاندانی تصاویر، ایلون مسلک کی کمپنی میں انسوسمنٹ ڈیل، لڑکیوں کا رو رو کر بیان، ویڈیو ریکارڈنگ، لائیو لوکیشن، اور عدالتی پیشی میں کون لوگ سامنے آئے؟ اصل کردار اس وقت کہاں ہیں؟
سینیئر وکیل نے لکھا کہ ’پولیس کا شروع سے اب تک کا کردار، اس حد تک انتظامی بدنیتی، بیشمار حقائق خود کو سامنے لے آئیں گے-‘
اس کے بعد ایک الگ پوسٹ میں میاںعلی اشفاق ایڈووکیٹ نےسوالات پوچھے کہ خواتین ملک سے واپس روانہ اور مختلف حلیے والے ایف آئی آر کے نامعلوم ملزمان کو شناخت کس نے کرناہے؟ مقدمے کا تتمہ، بیان میں کمزوریاں، کیا جان بوجھ کر موجود رکھی گئیں کہ ملزمان کو مکمل فائدہ پہنچایا جا سکے؟
انہوں نے کہا کہ ’قومی وقار کی دنیا بھر میں دھجیاں اُڑ گئی ہیں اور یہاں کیس کی بنیاد ہی سرے سے بدنیتی پر مبنی ہے، جہاں اب جج بھی �محفوظ اور آزاد نہیں ہیں- غیر محفوظ مہمان اور غیر محفوظ ججز-‘
دوسری جانب سوشل میڈیا پر مقدمے کے ایک ملزم کے نام کے ساتھ ڈار کے لاحقے کی وجہ سے بھی بحث جاری ہے-
ادھر راوی کے نام سے مشہور ایک صحافی کردار نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر متاثرہ غیرملکی خواتین کی تصویر شیئر کی ہے جس کے بعد اُن کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے کہا جا رہا ہے-