نیتن یاہو سے ہم آہنگی، اُن کو معلوم ہے کہ باس کون ہے: صدر ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کی ہے۔
امریکہ کی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم سے متعلق بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رکھتے ہیں، نیتن یاہو جانتے ہیں کہ باس کون ہے۔‘
امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ملاقات ممکنہ طور پر اگلے ہی ہفتے ہو سکتی ہے جب صدر ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس سے واپس لوٹیں گے۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ملاقات فروری میں وائٹ ہاؤس کے سچوئیشن روم میں ہوئی تھی، ایگزیوس کے مطابق اس ملاقات میں نیتن یاہو نے ایران کے خلاف مشترکہ جنگ شروع کرنے کا اپنا منصوبہ پیش کیا تھا۔
اس کے بعد جون میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات پیدا ہو چکے ہیں جس کی وجہ لبنان میں اسرائیل کی عسکری کارروائیاں ہیں۔
لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے امریکہ سے بات چیت معطل کرنے کا عندیہ دیا تھا جس نے جنگ سے باہر نکلنے کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کو ممکنہ طور پر دھچکہ پہنچایا تھا۔
ایگزیوس نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایک ٹیلی فون کال میں اسرائیلی وزیراعظم کو ’پاگل‘ کہہ دیا تھا۔
امریکی اخبار نیو یارک پوسٹ کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا، میں ان کی لبنان سے مسلسل لڑائی کے سبب کچھ پریشان سا ہو گیا تھا۔‘
یہ بھی رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ امریکہ نے ایران سے جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت پر جو دستخط کیے، اس پر بھی نیتن یاہو کو تحفظات تھے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعے کے روز نیتن یاہو نے ٹرمپ کو امریکہ کے 250 ویں یوم آزادی پر مبارک باد دینے کے لیے فون کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا: ’گفتگو کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ عالمی آزادی کا ضامن ہے اور اسرائیل دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ نے امریکہ میں ملاقات پر اتفاق کیا۔‘
ایگزیوس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے ساتھ ملاقات نیتن یاہو کے لیے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہو گی کیونکہ وہ اسرائیل میں اکتوبر کے انتخابات کے لیے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر رہے ہیں، جہاں موجودہ سروے انھیں پیچھے دکھا رہے ہیں۔
ایگزیوس کے مطابق انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے بتایا کہ وہ ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جنھیں جنگ کے پہلے دن امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں قتل کر دیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی ’معاہدہ کرنے کے لیے منتیں کر رہے ہیں‘ لیکن ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں نے فیصلہ کیا ہے کہ خامنہ ای کی آخری رسومات سے متعلق تقریبات کے اختتام تک مذاکرات میں ایک ہفتے کا وقفہ رکھا جائے۔ اس دوران، ان کے بقول، کوئی بھی فریق دوسرے پر فائرنگ نہیں کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں لوگ خامنہ ای سے نفرت کرتے ہیں، اس لیے انھیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ بعض ایرانی آخری رسومات میں رو رہے تھے۔ ٹرمپ نے کہا: ’شاید یہ مصنوعی آنسو ہوں۔‘