اہم خبریں

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے سروس فیس وصول کریں گے: ایران

جولائی 5, 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے سروس فیس وصول کریں گے: ایران

چین میں تعینات ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ’سروس فیس‘ وصول کرے گا، اس منصوبے کی امریکہ نے مخالفت کی ہے۔

عبدالرضا رحمانی فضلی نے بیجنگ میں ’ورلڈ پیس فورم‘ میں کہا کہ ایران، عمان کے تعاون سے اس اہم آبی گزرگاہ کے لیے ’نئے انتظامات‘ پر کام کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ایک ایسے ملک کے طور پر جس کے علاقائی پانیوں میں ہرمز شامل ہے، ہم یقینی طور پر سروس فیس وصول کریں گے۔‘ رحمانی فضلی نے زور دیا کہ یہ ’ٹرانزٹ فیس‘ نہیں شمار ہو گی۔

ایران کے سفیر کا کہنا تھا کہ ان نئے انتظامات کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے کی حفاظت کو یقینی بنانا، جہازوں کی آمدورفت کی نگرانی کرنا اور جہازوں کی زیادہ مقدار کے ماحولیاتی نتائج سے نمٹنا ہے۔

ایرانی سفیر نے یہ بھی کہا کہ جو ممالک ’مشکل دنوں‘ میں ایران کے ساتھ کھڑے رہے ہیں ان کے ساتھ ’خصوصی سلوک‘ کیا جائے گا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے کے مطابق تجارتی بحری جہاز 60 دن تک بغیر فیس ادا کیے آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ مدت ختم ہونے کے بعد کیا انتظامات کیے جائیں گے۔

آبنائے ہرمز عام طور پر دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے گزرگاہ ہے، لیکن مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران ایران نے اس راستے کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا، جس کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے