اہم خبریں

میڈیا کیوں نہیں‌ بولتا، وجوہات کیا ہیں؟ خرم مشتاق کا کالم

جولائی 5, 2026

میڈیا کیوں نہیں‌ بولتا، وجوہات کیا ہیں؟ خرم مشتاق کا کالم

‏ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ بہت سے ایسے ایشوز ہوتے ہیں جو مکمل طور پر عوامی نوعیت کے ہوتے ہیں، لیکن میڈیا ان پر خاموش رہتا ہے۔ حالانکہ میڈیا کا بنیادی کردار ایک واچ ڈاگ کا ہوتا ہے، جو ریاست اور حکومت کے تمام اقدامات پر گہری نظر رکھے، آئین کی خلاف ورزی، عوامی مفاد کے خلاف فیصلوں، قانون کی عدم پاسداری، کرپشن، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو عوام کے سامنے لائے۔

‏لیکن ہم عرصۂ دراز سے دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے ایسے عوامی مسائل ہیں جن پر مین اسٹریم میڈیا میں مکمل بلیک آؤٹ ہوتا ہے۔ اگر کہیں بات بھی ہوتی ہے تو انتہائی محتاط انداز میں۔ لوگ پیکا جیسے قوانین اور دیگر خدشات کے باعث سوشل میڈیا پر تو کچھ نہ کچھ گفتگو کر لیتے ہیں، مگر مین سٹریم میڈیا خاموش رہتا ہے۔

‏آخر میڈیا کیوں نہیں بولتا؟

‏اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ایک وجہ ریاستی پابندیاں ہیں۔ کچھ ایسے حساس موضوعات ہوتے ہیں جن پر ریاست کی جانب سے واضح یا غیر واضح طور پر یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ان پر گفتگو نہیں کرنی۔

‏دوسری وجہ سیلف سنسرشپ ہے۔ پاکستان میں میڈیا زیادہ تر سیٹھ مالکان کے ہاتھ میں ہے۔ ان میں سے بہت سے مالکان کے اپنے کاروباری، مالی اور دیگر مفادات حکومتوں، سرکاری عہدیداروں اور مختلف طاقتور حلقوں سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے وہ اپنی ادارتی پالیسی اس انداز سے ترتیب دیتے ہیں کہ کسی طاقتور فریق کو زیادہ ناراض نہ کیا جائے۔

‏تیسری چیز مالی سنسرشپ ہے۔ سرکاری اشتہارات اور دیگر مالی مراعات کے ذریعے میڈیا کی ادارتی پالیسی کو متاثر کیا جاتا ہے، خبروں کا رخ موڑا جاتا ہے اور اصل مسئلے کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

‏چوتھی وجہ بعض بڑے اینکرز اور سینئر صحافی بھی ہیں۔ چاہے وہ ٹی وی پروگرام کر رہے ہوں یا اپنے یوٹیوب چینلز، پاکستان میں ایک ایسا طبقہ بھی پیدا ہو چکا ہے جو سرکاری افسروں، وزیروں اور طاقتور شخصیات سے اپنے ذاتی کام بھی کرواتا ہے۔ بعض اوقات بڑے کاروباری مفادات میں بھی ان کا کردار یا اثر و رسوخ زیرِ بحث رہتا ہے۔ ایسے ماحول میں غیر جانبدار صحافت متاثر ہوتی ہے اور عوام تک مکمل اور درست تصویر نہیں پہنچ پاتی۔

‏اس کے بعد نچلی سطح کے رپورٹرز آتے ہیں۔ ان کی مالی حالت پہلے ہی کمزور ہوتی ہے، پھر مختلف طریقوں سے انہیں بھی مراعات، پلاٹس یا دیگر فوائد دے کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً ایک ایسا ماحول بن جاتا ہے جہاں آزاد صحافت کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

‏یہ ایک مکمل کنٹرولڈ انوائرمنٹ بن چکا ہے۔ایسے حالات میں سرکاری ملازمین، خصوصاً سول بیوروکریسی، طاقتور حلقوں کے سامنے تو مکمل طور پر بے بس اور بے اختیار نظر آتی ہے، لیکن عام عوام اور غریب آدمی کے سامنے ان کا رویہ ایسا ہوتا ہے جیسے وہ کسی نوآبادیاتی دور کے وائسرائے ہوں۔ اے سی، ڈی سی، بیوروکریسی اور بعض اوقات پولیس کا رویہ بھی عام شہری کے ساتھ اسی احساسِ برتری کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ اپنے سے زیادہ طاقتور لوگوں کے سامنے وہی نظام بالکل بے بس دکھائی دیتا ہے۔

‏یوں پورے معاشرے کا تانا بانا متاثر ہو چکا ہے۔ ریاستی ادارے اپنی اصل ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہیں کر پا رہے۔ اگر عدلیہ کی طرف جائیں تو وہاں بھی صورتحال زیادہ مختلف نظر نہیں آتی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے