اہم خبریں

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں، سپریم کورٹ میں کیا ہوا؟

جولائی 6, 2026

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں، سپریم کورٹ میں کیا ہوا؟

سپریم کورٹ نے وکیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیے ہیں-

پیر کو سماعت کے آغاز پر کمرہ عدالت نمبر 3 میں سول سوسائٹی کے نمائندے، وکلا اور اہلخانہ موجود تھے- افراسیاب خٹک اور فرحت اللہ بابر بھی ڈاکٹر شیریں مزاری کے ہمراہ اظہار یکجہتی کے لیے عدالت میں‌ تھے-

سپریم کورٹ میں نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی اور سرکاری وکلا سماعت کے موقع پر موجود نہیں‌ تھے-

ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے عدالت میں‌ 12 مئی کو جاری کیا آرڈر پڑھا اور بینچ کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر 20 مئی کو ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، وہاں سپریم کورٹ کے آرڈر کی مصدقہ نقل پیش کی، اس کے بعد یکم جون کے لیے کیس کی سماعت رکھی گئی تو یکم جون کو استغاثہ نے مہلت مانگ لی-

اڈیالہ جیل میں‌ پابند سلاسل وکلا کی جانب سے پیش ہونے والے فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے مزید بتایا کہ چار جون تک کیس ملتوی ہوا تو چار جون کی کاز لسٹ ہی منسوخ کر دی گئی- اس کے بعد 15 جون کو ہم نے جلد سماعت کی درخواست دائر کی تو رجسٹرار آفس نے وہ درخواست لینے سے انکار کرتے ہوئے اعتراض عائد کیا کہ آپ کی جلد سماعت کی پہلی درخواست پر فیصلہ ہو چکا ہے-

وکیل نے بینچ کو آگاہ کیا کہ اس کے بعد تاحال کیس اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے نہیں لگا جو کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کی کھلی خلاف ورزی ہے-

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے تو 19 فروری کے آرڈر میں آپ کی اپیلوں پر نوٹس جاری کیا، آپ کی سزا معطلی درخواستوں پر بھی نوٹس جاری کیا اس پر ابھی تک کوئی بحث بھی نہیں ہوئی-

سماعت کے دوران ایک موقع پر جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا سزا کتنی ہے ؟ وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ سزا 17 سال ہے، چونکہ ایک ساتھ شروع کی گئی اس لئے دس سال ہے اور 36 ملین روپے جرمانہ ہے-

وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ 19 فروری کو سزا معطلی درخواستوں پر نوٹس ہوا، 27 فروری کو دوبارہ ہماری جلد سماعت کی درخواست پر کیس مقرر ہوا تو بینچ ٹوٹ گیا اور فائل چیف جسٹس ہائیکورٹ کو بھیجوا دی گئی، اس کے بعد مئی میں سپریم کورٹ آنے تک ہمارا کیس سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کیا گیا تھا-

سزا یافتہ وکلا کے وکیل نے سپریم کورٹ کے سامنے کہا کہ اب ان کے پاس کوئی عدالتی فورم یا راستہ نہیں سوائے اس کے کہ یہاں رجوع کریں-

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عام طور پر سپریم کورٹ ہائیکورٹ کے عبوری حکم پر بھی مداخلت نہیں کرتی ابھی تو ہائیکورٹ نے استغاثہ کو نوٹس بھی جاری نہیں کیا-

فیصل صدیقی نے بتایا کہ اس کیس میں یہ غیرمعمولی صورتحال ہے، کیس فکس کرکے فیصلہ کریں ہمیں اذیت نہ دیں، فیصلہ خلاف کرنا ہے کردیں مگر کیس تو لگائیں چاہے پھانسی دیدیں-

جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا پراسیکوشن یعنی سرکاری استغاثہ کی جانب سے کوئی عدالت میں‌. موجود ہے ؟

پراسیکوشن کی طرف سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ میں کسی کے موجود نہ ہونے پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ استغاثہ کا وہاں بھی یہی رویہ رہا ہے-

فیصل صدیقی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ جو اس مقدمے میں ہمارے ساتھ ہو رہا ہے ایسا پہلے کبھی عدالتوں میں ہوتے نہیں دیکھا-

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ان درخواستوں کو اگلے ہفتے کے بعد سماعت کے لیے مقرر کر رہے ہیں،سماعت کی اگلی تاریخ 21 جولائی کرتے ہیں-

بینچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے-

قبل ازیں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو سزا معطلی کی درخواستوں پر دو ہفتے میں‌ فیصلہ کرنے کے لیے کہا تھا-

ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو اسلام آباد کی ٹرائل کورٹ نے ٹویٹس کے مقدمے میں سترہ، 17 سال کی قید کی سزا سنائی تھی-

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اسٹیبلشمنٹ کے ناقد وکلا چار ماہ سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں‌ قید ہیں-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے