اسلام آباد میں معمولی تلخی پر ایئر فورس کے افسر کا قتل، تمام حکومتی عہدیداروں کے بیانات
اسلام آباد میں معمولی تلخی پر ایئر فورس کے افسر کے قتل پر صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ سمیت تمام حکومتی عہدیداروں نے بیانات جاری کیے-
پاکستان کے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی ایک بیان میڈیا کو جاری کیا گیا جبکہ اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے اس حوالے سے پریس کانفرنس بھی کی-
ملک کے تمام نیوز چینلز نے اس واقعے کو خصوصی کوریج دی ہے اور قتل کیے گئے افسر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اُن کو ہیرو قرار دیا ہے-
اتوار کو دن ساڑھے گیارہ بجے پیش آنے والے واقعے کے نو گھنٹے بعد اسلام آباد پولیس نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فضائیہ کے افسر کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کا کہنا تھا کہ مقتول گروپ کیپٹن عاصم طارق سرکاری کام کے لیے راولپنڈی جا رہے تھے، جب اُنھوں نے دیکھا کہ ایک شخص زبردستی ایک خاتون کو اپنے ساتھ لے کر جانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ گروپ کیپٹن یو ٹرن لے کر گاڑی موٹر سائیکل کے سامنے لے آئے اور ملزم کو روکا، مزاحمت پر ملزم نے اُن پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر دم توڑ گئے اور ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ اسلام آباد میں شاہین چوک کے قریب پیش آیا جہاں ایئر فورس کا ہیڈ کوارٹر اور تین فوجی یونیورسٹیاں بحریہ، ایئر یونیورسٹی اور این ڈی یو واقع ہیں-
آئی جی کے مطابق قتل کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی 11 ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔
آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ گروپ کیپٹن نے وہی کیا جو ایک ذمہ دار شہری کرتا ہے اور اُنھوں نے ایک محبِ وطن شہری ہونے کا ثبوت دیا۔
آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ملزم اور خاتون ایک ہی جگہ پر کام کرتے تھے اور ملزم ماضی میں خاتون کو پک کرتا رہا ہے، تاہم اتوار کو اس نے اسے زبردستی کہیں اور لے کر جانے کی کوشش کی۔
ایس پی سٹی ایاز حسین کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک شخص ایک لڑکی سے زبردستی کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اس دوران وہاں سے گزرنے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق نے اسے روکنے کی کوشش کی جس پر ملزم نے طیش میں آ کر گولی چلا دی جو افسر کے سینے پر لگی۔
تھانہ مارگلہ پولیس کے مطابق ایئر فورس کے مقتول افسر کے ورثا کی جانب سے ابھی تک تھانے میں مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست نہیں دی گئی۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کی تھی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستانی فضائیہ کے افسر کی موت پر افسوس کا اظہاری کرتے ہوئے حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دیں۔
اُنھوں نے کہا کہ ملزم مبینہ طور پر زبردستی لڑکی کا ہاتھ کھینچ کر موٹر سائیکل پر بٹھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران فضائیہ کے گروپ کیپٹن وہاں پر آ گئے اور معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن ملزم نے طیش میں آ کر گولی چلا دی جو ایئر فورس کے افسر کی چھاتی پر لگی اور وہ موقع پر دم توڑ گئے۔
یہ واقعہ وفاقی دارالحکومت کے تھانہ مارگلہ کی حدود میں پیش آیا۔
واقعے کے بعد گروپ کیپٹن عاصم طارق کی میت کو پاکستان ائیر فورس ہسپتال یونٹ ٹو منتقل کر دیا گیا، جبکہ تھانہ مارگلہ پولیس کے ایڈیشنل ایس ایچ او صدیق اور ڈیوٹی افسر نوید فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا آغاز کیا-

