اہم

توہین مذہب کے مقدمات سپریم کورٹ میں، چار افراد کی سزائے موت پر اپیلوں میں کیا ہوا؟

جولائی 6, 2026

توہین مذہب کے مقدمات سپریم کورٹ میں، چار افراد کی سزائے موت پر اپیلوں میں کیا ہوا؟

اے وحید مراد، نمائندہ خصوصی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے بلاسفیمی یا توہین مذہب کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے چار افراد کی اپیلوں کی سماعت کی-

چیف جسٹس یحیٰی آفریدی کی سربراہی میں‌ جسٹس شکیل احمد اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی عدالتی بینچ نے چار مختلف اپیلوں پر لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے کی سماعت میں سزائے یافتہ افراد کے وکلا اور اُن کے خلاف مقدمات درج کرانے والے استغاثہ کے علاوہ سرکاری وکیل کو بھی سُنا-

لاہور سے تعلق رکھنے والے مسیحی کمیونٹی کے دو بھائیوں قیصر ایوب اور آمون ایوب کے بارے میں‌ عدالتی بینچ کو بتایا گیا کہ وہ سنہ 2015 سے جیل میں‌ ہیں، اور دونوں کو بلاسفیمی یا توہین مذہب کے مقدمات میں‌ سزائے موت سنائی گئی تھی- ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے-

اپیل میں‌ سزائے موت کے قیدیوں کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جُرم سنہ 2010 کا بتایا گیا تھا جبکہ سنہ 2015 میں‌ فردِ جرم عائد کی گئی-

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایک ویب سائٹ سے نکلنے والے مواد کی بنیاد پر توہین مذہب کا مقدمہ 295 سی کے تحت درج کیا گیا- اس ویب سائٹ کی ہوسٹنگ سنہ 2010 میں‌ ایکسپائر ہو چکی تھی- ایف آئی آر میں‌ جس ویب سائٹ کا ایڈریس لکھا ہے وہ کوئی اور ہے جبکہ جس ویب سائٹ کو فردِ جرم میں‌ شامل کیا گیا اُس کا پتہ کچھ اور ہے-

چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں‌ جو شواہد پیش کیے گئے وہ صرف اس حد تک نہیں بلکہ دیگر بھی ہیں-

وکیل نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ میں جتنے بھی تفتیشی اور گواہ پیش ہوئے، کسی نے یہ نہیں‌ کہا کہ ویب سائٹ ملزمان کی ہے-

اس موقع پر عدالتی بینچ میں‌ موجود تینوں ججز نے سزائے موت کے قیدیوں کے وکیل سے کہاکہ وہ دیگر شواہد کو دیکھتے ہوئے اپنا کیس پیش کریں کیونکہ ٹرائل کورٹ میں‌جن بنیادوں پر مقدمہ لڑا گیا اور سزا سنائی گئی اُن تمام نکات پر اپنا دفاع کریں تاکہ سپریم کورٹ کو فیصلے تک پہنچنے میں‌آسانی ہو-

وکیل نے کہا کہ ایک دفاع تو یہ ہےکہ ملزمان کو وقوعے کے تین سال بعد گرفتار کیا گیا- قیصر ایوب کو 11 نومبر 2014 کو جبکہ اُن کے بھائی آمون ایوب کو 18 اپریل 2015 کو گرفتار کیا گیا- جبکہ جس ویب سائٹ پر توہین مذہب کا مواد شائع کرنے کا الزام ہے وہ سنہ 2010 کی تھی-

دفاع کے وکیل نے کہا کہ جتنا بھی توہین مذہب کا مواد ہے وہ ویب سائٹ سے نکلا ہے ہم سے برآمد نہیں کیا گیا- یہ تمام مواد پلانٹ کیا گیا اور 295 سی کے مقدمے میں‌عدالت نے کسی بھی موقع پر حقائق کو نہیں‌ جانچا-

عدالتی بینچ کی جانب سے سوال کیا گیا کہ جو مواد ویب سائٹ سے ملا، وہ کیا تھا؟

وکیل نے جواب دیا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں وہ تمام مواد بلاسفیمی پر مشتمل تھا- تاہم اُن کا کیس یہ ہے کہ کسی بھی تفتیشی نے اپنا کام پورے طریقے سے نہیں کیا- انہوں نے یہ تک نہیں دیکھا کہ ورڈ پریس کیا ہے، ویب سائٹ کیا ہوتی ہے اور کیسے کام کرتی ہے-

عدالت کی ہدایت پر وکیل نے ایک سزائے یافتہ قیدی قیصر ایوب کے ٹرائل کورٹ میں دیے گئے بیان کو پڑھا جس کے مطابق وہ شادی شدہ ہیں اور اُن کا تعلق مسیحی کمیونٹی سے ہے، اور یہ کہ وہ تمام انبیائے کرام کا احترام کرتے ہیں اور مسلمانوں کے پیغمبر کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتے-

سپریم کورٹ کے بینچ نے سوال کیا کہ مقدمے کے مدعی کی ملزمان سے کیا پرخاش ہو سکتی ہے؟ اس پر وکیل نے بتایا کہ دو اشخاص تھے جن میں‌ سے ایک زریاب قریشی تھے جنہوں‌نے قیصر ایوب اور آمون ایوب کو ایک شخص سے رابطے رکھنا اور دوستی سے منع کیا تھا، اُس شخص کا نام شہزاد سلیم تھا اور وہ احمدی تھا-

وکیل نے کہا کہ اُن کا ایک دفاع اس نکتے پر بھی ہے کہ ملزمان لاہور سے ہیں، وقوعہ لاہور کا ہے اور ویب سائٹ صرف چکوال والوں نے دیکھی اور مقدمہ درج کیا- تفتیش کرنے والوں نے اس پہلو کو دیکھا تک نہیں- عدالت میں‌ پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق ملزم کی ویب سائٹ بند ہو چکی تھی اور اُس کے ایڈریس میں‌ ڈاٹ آرگ نہیں‌بلکہ ورڈ پریس تھا-

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے وکیل سے پوچھا کہ ای میل سے بھی تو کچھ ملا تھا، اس پر کیا دفاع پیش کریں‌گے؟

چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ دفاع تو یہ بھی ہونا چاہیے تھا کہ مواد ایک بھائی سے ملا، تو دوسرے بھائی پر بھی مقدمہ کیوں‌کیا گیا، اس سے کچھ نہیں‌ملا تھا-

اس کے بعد چیف جسٹس نے استغاثہ اور سرکاری وکیل سے پوچھا کہ ایف آئی آر میں‌ویب سائٹ کاپتہ نہیں‌لکھا جبکہ فردِجرم میں‌بھی ابتدائی طور پر ایسا نہیں، اس کا بتائیں-

سرکاری وکیل نے بتایا کہ ایک جگہ یوسی او پاک ڈاٹ آرگ جبکہ دوسری یو سی او پاک ڈاٹ ورڈ پریس ہے، تکنیکی جائزے سے معلوم کیا گیا تھا کہ یہ دونوں ایک ہی ہیں، ایک ہی شخص کی ہیں، اور ان کا مواد بھی ایک ہی تھا-

چیف جسٹس نے پوچھا کہ دو بھائی ہیں، ایک سے تو برآمدگی ہو گئی، دوسرے کا بتائیں، اُس سے کیا ملا؟

سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ قیصر ایوب نے ایک دفتر کرائے پر لیا، وہاں اپنے نام سے پی ٹی سی ایل کا کنکشن لگایا، یہ مارچ 2009 میں‌ کیا گیا- گرفتاری سسر کے گھر سے کی گئی جہاں‌اُس کی بیوی بھی موجود تھی اور ایک لیپ ٹاپ بھی برآمد کیا گیا-

عدالتی بینچ نے سوال پوچھا کہ ریکارڈ بتا رہا ہے کہ گرفتاری کے چھ ماہ بعد ڈی پی او چکوال نے اسلام آباد میں‌ سائبر کرائم کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو چھٹی لکھی کہ کمپیوٹر، ہارڈ ڈسک کا فرانزک کرایا جائے-

جسٹس شکیل احمد نے پوچھا کہ کیا یہ برآمدگی گرفتاری کے چھ ماہ بعد تصور نہ کی جائے؟

پراسیکیوٹر نے بتایا کہ دوسرا بھائی 18 اپریل 2015 کو پکڑا گیا تھا- وہ لاہور ایئرپورٹ سے بیرون ملک جاتے ہوئے پکڑا گیا، یہ دونوں بھائی باہر جا کر پناہ لینا چاہتے تھے- دوسرا بھائی مفرور ہو گیا تھا اور عدالتی ریکارڈ پر یہ ثابت ہے-

عدالت نے ہدایت کی کہ دونوں اطراف کے وکلا تحریری طور پر حتمی دلائل 10 دن کے اندر جمع کرائیں جس کے بعد فیصلہ سنایا جائے گا-

دوسرے مقدمے میں‌عدالت کو بتایا گیا کہ عمر دراز اور لیاقت علی ضلع جنگ کے رہائشی تھے اور توہین مذہب کے مقدمات میں سنہ 2006 سے جیل میں‌ ہیں-

دونوں کو ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی جس کے خلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ نے سنی اور وہاں بھی فیصلہ برقرار رکھا گیا-

سزائے موت پانے والے قیدیوں کے وکلا نے عدالت میں‌ مؤقف اختیار کیا کہ دونوں کی ذہنی صحت پر سوالات ہیں، اور اُن کے لیے میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دیا گیا تھا جس کی رپورٹ موجود ہے-

عدالت کو بتایا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے ابتدائی مرحلے میں‌ بہت سی چیزیں‌ نظرانداز کیں اور ذہنی صحت کے لیے حوالے سے رپورٹس کو بھی نہ دیکھا-

چیف جسٹس نے یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اگر اس نتیجے پر پہنچے تو اس پر دونوں اطراف کے وکلا سے حتمی دلائل سنیں‌گے، اور اگر نہ پہنچے تو فیصلہ سنائیں گے- انہوں نے دونوں فریقوں کے وکلا سے کہا کہ وہ تحریری طور پر بھی اپنے دلائل جمع کرا دیں تاکہ اُن کو ملاحظہ کیا جا سکے-

جسٹس شکیل احمد نے کہاکہ دونوں کے وکلا نے ٹرائل کورٹ کو درست طور پر معاونت فراہم نہ بھی کی ہو تو جب ریکارڈ پر ایک چیز آ گئی کہ ملزمان کی ذہنی صحت مشکوک ہے تو عدالت کی اپنی بھی کچھ ذمہ داری تھی-

جسٹس شکیل احمد نے وکلا سے کہا کہ تحریری دلائل میں احادیث کے حوالے سے یہ بھی بتائیں کہ فاترالعقل شخص کے اعمال یا افعال کے نتائج کیا ہوں گے؟

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے