اہم خبریں

زیارت میں‌قتل کیے گئے 30 پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ کا دھرنا دوسرے روز بھی جاری

جولائی 10, 2026

زیارت میں‌قتل کیے گئے 30 پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ کا دھرنا دوسرے روز بھی جاری

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے متصل ضلع زیارت میں 30 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف جاری دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔

دوسری جانب گذشتہ اتوار سے کوئٹہ میں جاری احتجاجی دھرنا مغوی افراد کی بازیابی اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ساتھ مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا ہے-

دھرنا دینے والوں سے مذاکرات کے موقع پر وزیراعلٰی سرفراز بگٹی نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے کسی بھی سطح پر کوئی کوتاہی یا غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کرتے ہوئے اس کا ازالہ کیا جائے گا اور متاثرین کو ممکنہ داد رسی کی جائے گی۔

وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بھی موجود تھے، جہاں اہم فیصلے کیے گئے ہیں اور ان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بطور وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف آف بگٹی وہ متاثرہ خاندانوں سے کیے گئے تمام وعدے پورے کرنے کے پابند ہیں۔

سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو مالی معاوضہ دیا جائے گا، اہلِ خانہ کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں گی اور متاثرہ بچوں کی تعلیم کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے گی۔

اگرچہ ہنہ اوڑک کے واقعے کے خلاف دھرنا ختم ہو گیا ہے، تاہم کوئلہ پھاٹک کے مقام پر زیارت کے پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج بدستور جاری ہے۔

یہ دھرنا جمعرات کے روز بعض مقتول پولیس اہلکاروں کی لاشوں کے ہمراہ شروع کیا گیا تھا اور تازہ اطلاعات کے مطابق احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے