اہم

امریکی بمباری کے بعد ایران کا کویت پر ’تین بیلسٹک میزائلوں‘ سے حملہ

جولائی 12, 2026

امریکی بمباری کے بعد ایران کا کویت پر ’تین بیلسٹک میزائلوں‘ سے حملہ

کویت کی وزارتِ دفاع نے نئے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ملک کے شمالی حصے میں واقع تیل کی تین تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں جبکہ مالی نقصان ہوا ہے۔‘

وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق ’کویت آئل کمپنی کے ایک آف شور آئل پلیٹ فارم پر بھی ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک کارکُن کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔‘

کویتی فوج نے کہا ہے کہ ’وہ ضروری حفاظتی اقدامات کرنے اور ملک کی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘

دوسری جانب ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ’کویت میں امریکی فوج کے زمینی میزائل یونٹ کے ایک مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

تاہم ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

ادھر ایران کے جزیرہ قشم کے گورنر نے جزیرے پر نئے حملوں کی تصدیق کی ہے۔

ایران کے جزیرہ قشم کے گورنر حسین امیر تیموری نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو بتایا کہ اتوار کی شام قشم جزیرے پر 10 سے 11 میزائلوں سے حملے کیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق ’تمام اہداف فوجی نوعیت کے تھے اور ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘

اس سے قبل ایرانی میڈیا نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بندر عباس اور قشم میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات دی تھیں۔

خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ’بندر عباس کے مشرقی علاقوں اور قشم کے سمندری علاقے سے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔‘

ادارے نے مزید بتایا کہ ’قشم جزیرے کے جنوبی علاقے ماسان کے رہائشیوں نے بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔‘

قبل ازیں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر عراق کی سرحد کے قریب کویت میں میزائل حملوں کے بعد دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے ہیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے اس واقعے یا فضا میں اُٹھتے دھویں بادل کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا تاہم ایرانی خبر رساں اداروں فارس اور مہر نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دھواں ’تین بیلسٹک میزائلوں‘ کے حملے کے نتیجے میں اٹھا-

دعوے میں کہا گیا ہے کہ حملے کا ہدف ’امریکی میزائل داغنے کا ایک مقام‘ تھا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے