اہم

مونال ریستوران کی بحالی، مشہور وکیل احسن بھون آئینی عدالت سے بھی ریلیف لینے میں‌ کامیاب

جولائی 13, 2026

مونال ریستوران کی بحالی، مشہور وکیل احسن بھون آئینی عدالت سے بھی ریلیف لینے میں‌ کامیاب

پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں میں‌ گرائے گرئے مونال ریسٹورنٹ کے کیس میں دیا گیا سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کر دیا ہے-

پیر کو اس حوالے سے وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بینچ نے سماعت کے بعد مختصر حکمنامہ جاری کیا-

جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے موجودہ دور کے انتہائی فعال وکیل اور مقدمات جیتنے کے لیے شہرت رکھنے احسن بھون پیش ہوئے اور دلائل دیے-
حیران کُن بات یہ ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کی جاری کردہ کاز لسٹ میں اس مقدمے میں‌ احسن بھون کا نام بطور وکیل کسی بھی فریق کی جانب سے پیش ہونے کے لیے درج نہیں تھا-

آئینی عدالت کے سامنے وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد درخواستیں دائر کر رکھی تھیں-

گزشتہ سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی حمایت کی تھی تاہم اُس وقت وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے متعلقہ فورمز پر جاری دیوانی کارروائی مکمل ہونے کے لیے کہا تھا-

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ مسمار کرنے کے سپریم کورٹ فیصلے پر سوالات اٹھائے تھے اور جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ مونال کی لیز تجدید کا کیس سول کورٹ میں زیرالتواء تھا، جبکہ انٹراکورٹ اپیلیں بھی ہائی کورٹ میں زیرالتواء تھیں-

مونال ریسٹورنٹ کے مالک لقمان افضل کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے بتایا تھا کہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلے سے تمام عدالتوں میں زیرالتواء کیسز نمٹانے کا حکم دیا-

جسٹس حسن رضوی نے سوال کیا کہ متعلقہ فریقین کو سننے کا نکتہ وکلا نے سپریم کورٹ میں کیوں نہیں اٹھایا؟ کیا تمام وکیل وہاں پر گونگے ہو گئے تھے؟

وکیل احسن بھون نے بتایا کہ وہ وہاں بھی ویسے ہی ادب سے کھڑے تھے جیسے یہاں اس عدالت میں کھڑے ہیں-

بینچ کے سربراہ نے اُن سے بتایا کہ وکیل کا کام قانونی نکات اٹھانا ہے ادب سے درباری کھڑے ہوتے ہیں، سی ڈی اے کی نظرثانی درخواست میں ٹھوس نکات تو اٹھائے ہی نہیں گئے-

حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وائلڈ لائف بورڈ کا نیا قانون 2024 میں آ چکا ہے- جبکہ وکیل احسن بھون نے بتایا کہ تمام فریق متفق ہیں کہ سول کورٹ میں کیس چلنے دیا جائے-

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ تمام وکلاء کا اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے- جس پر جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ وکلاء کے اتفاق سے تو عدالتیں نہیں چلتیں، جس قسم کا سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے وہ اتفاق رائے سے نہیں ختم ہوسکتا-

جسٹس حسن رضوی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا حکم واپس لینے کے لیے تفصیلی فیصلہ دینا پڑے گا، سپریم کورٹ کی طرح کسی پر اپنا فیصلہ تھوپنا نہیں چاہتے-

عدالت نے پیر کو مختصر فیصلہ جاری کرنے کے بعد تحریری فیصلے کے لیے کوئی وقت نہیں دیا-

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سب سے پہلے مارگلہ پہاڑیوں میں واقع مونال ریسٹورنٹ کے کیس میں‌فیصلے دیتے ہوئے یہاں‌تعمیرات کو نیشنل پارک کے قانون کی خلاف ورزی قرار دیا تھا-

ہائیکورٹ میں یہ معاملہ مونال ریسٹورنٹ کے مالک کی جانب سے کرایہ داری کی وجہ سے آیا تھا جہاں معلوم ہوا کہ وفاقی ترقیاتی ادارے کی جانب سے قائم کیے گئے اس پلاٹ پر ملٹری لینڈ ڈائریکٹریٹ ملکیت کا دعویدار ہے اور جگہ کا کرایہ وصول کر رہا ہے-

سپریم کورٹ نے اسلام آبا ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے نیشنل پارک کی بحالی اور وائلڈ لائف کے تحفظ کے لیے تعمیراتی سرگرمیوں‌کو روکنے اور عمارت کو گرانے کا حکم دیا-

عدالتی فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور اُس وقت کی وائلڈ لائف مینجمنٹ کی ڈائریکٹر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم بھی چلائی گئی تھی-

مونال ریسٹورنٹ کے مالک نے تعمیرات گرائے جانے کے بعد اسلام آباد میں‌متعدد صحافیوں کے ساتھ ملاقاتوں اور کھانے کی دعوتوں کے دوران فیصلے کو اپنے ساتھ زیادتی قرار دیا تھا-

وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے تازہ فیصلے کے بعد کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر نے ایکس پر تبصرہ کیا ہے کہ:
�‏چوہدری احسن بھون نام ہی کافی ہے- ‏یہی دیکھ لیں ابھی وہ جسٹس حسن اظہر رضوی کے بینچ میں ان کے سامنے کھڑے تھے، ریلیف بھی لے لیا- ‏تھوڑی دیر بعد آج ہی اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز تعیناتی کے لیے انٹرویو پینل میں جسٹس حسن اظہر رضوی کے دائیں طرف بیٹھ کر انٹرویو بھی لے رہے ہوں گے-

ان کا کہنا تھا کہ وکیل احسن بھون ‏20 جولائی کو انہی جسٹس حسن اظہر رضوی اور دیگر کے ساتھ بیٹھ کر جج تعینات کر رہے ہوں گے، پھر کچھ عرصہ بعد انہی ججز کے سامنے پیش ہو رہے ہوں گے- ‏مفادات کا تو بالکل بھی ٹکروا نہیں ہے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے