جب لیونل میسی ’شکست کی لکیر سے فتح کھینچ کر لے آئے‘
علی ارقم، تجزیہ کار
پاکستان اور انڈیا کی فلم انڈسٹری میں ویسے تو کسی دور میں بھی موازنہ شاید درست نہ ہو لیکن ساٹھ ستر کی دہائیوں میں جب پاکستان فلم انڈسٹری میں بھی بڑے سپر سٹارز اور بہترین موسیقار اور پلے بیک سنگرز کا راج تھا، ایک دوسرے کی فلموں سے کہانیاں اور گانے چوری کرنے یا ٹائٹل کاپی کرنے کی روایت بھی تھی-
امیتابھ کی 1978 کی فلم (مقدر کا سکندر) کے چھ سات کے سال بعد پاکستان میں بھی مقدر کا سکندر بنی تھی جسے ہم نے نوے کی دہائی میں این ٹی ایم پر دیکھا، اس فلم میں اداکار محمد علی کا ڈائیلاگ ہے:
میرا نام مقدر کا سکندر ہے، موت کی لکیروں میں سے زندگی کھینچ کر لانا میرا مقدر ہے-
آج انگلینڈ کے خلاف ارجنٹینا کے سپر سٹار اور بلاشبہ ہمارے عہد کے عظیم ترین کھلاڑی لیونل میسی نے ایسا ہی کچھ کیا یعنی شکست کی لکیر سے فتح کھینچ کر لے آئے-
گیارہ کھلاڑیوں کی دفاعی لکیر میں سے دو گول کھینچ نکالنا قسمت کا کھیل نہیں بلکہ قسمت کو اپنی انگلیوں پر نچانے کا ہنر ہے-
نہ ان کی جیت نئی ہے نہ انگلینڈ کی ہار نئی-
تاریخ پھر سے ارجنٹینا کے حق میں تھی، انگلش ٹیم کا ایک بار پھر فائنل کی دہلیز پر دم توڑ جانا کوئی انوکھی بات نہیں ہے-
یہ ہار ایک بار پھر ان تمام پرانے تضادات، بزدلی، کم ہمتی اور تکنیکی خامیوں کو سامنے لے آئی ہے جن کا تذکرہ اکثر کیا جاتا رہا ہے-
تکنیکی بنیادوں پر دیکھا جائے تو انگلینڈ کا پہلے ہاف کا کھیل اس پورے ٹورنامنٹ میں ان کا بہترین پہلا ہاف تھا۔ ڈیکلن رائس اور ایلیٹ اینڈرسن کی مڈفیلڈ پوزیشننگ اور ہائی پریسنگ نے ارجنٹائن کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور پھر سیکنڈ ہاف کے آغاز پر ہی پچپن ویں منٹ میں اینتھونی گورڈن کے شاندار گول نے انگلینڈ کو وہ برتری دلائی جس کا وہ حقدار تھا
ایسا لگا کہ وہ قسمت اور تاریخ بدلنے جارہے ہیں، لیکن نہیں-
انگلش کوچ تھامس ٹوخل کی دفاعی ذہنیت (بیک فائیو یعنی پانچ کھلاڑیوں کی دفاعی لائن) اختیار کر لینا اور انتہائی پیچھے چلے جانا فاش غلطی ثابت ہوا-
ٹوخل کے پاس پچ پر ارجنٹینا کے دفاع کو مصروف رکھنے اور کاؤنٹر اٹیک کیلئے کوئی ‘آؤٹ لیٹ’ نہیں بچا تھا اور ان کی آخر میں کی گئی تبدیلیاں بھی گلے پڑ گئیں-
یہ صرف ٹیکٹکس کا نہیں بلکہ اعصاب کا کھیل تھا-
ایک شاندار آغاز کے باوجود انگلش ٹیم کا گھٹنے ٹیک دینا اور آخری لمحات میں دو گول کھا جانا فٹبال دیکھنے والوں کیلئے بالکل منطقی انجام تھا-
ارجنٹینا شروع میں کوئی بہت شاندار یا جادوئی فٹبال نہیں کھیل رہا تھا۔ ان کے پاس روایتی ونگرز کی کمی رہی ہے اور وہ حد سے زیادہ مڈفیلڈ پاسنگ پر انحصار کر رہے ہیں۔ لیکن ان کے پاس وہ کلر مینٹلٹی ہے جو انگلینڈ میں نہیں ہے-
اس پوری کہانی میں، ہمیشہ کی طرح انگلش میڈیا کا کردار بہت مزاحیہ رہا ہے، انہوں نے ٹورنامنٹ سے قبل ہی ٹوخل کو ‘جینیئس’ قرار دیتے ہوئے ایسا منظر پیش کرنا شروع کر دیا تھا جیسے ٹرافی اب محض ایک رسمی دوری پر ہے-
یہی مبالغہ آرائی انگلش ٹیم سے بین الاقوامی فٹبال فینز کی ناپسندیدگی کی ایک بڑی وجہ بھی ہے، میں نے پچھلے مضمون میں لکھا تھا
"پہلی وجہ سب سے زیادہ اور ٹرولنگ کی حد تک شور مچانے والا انگلش میڈیا ہے۔ دنیا کی مقبول ترین پریمیئر لیگ، انگریزی زبان کے اثر اور برطانوی نشریاتی اداروں کی وجہ سے تبصروں اور سابق کھلاڑیوں کے تجزیوں میں ہر ٹورنامنٹ انگلینڈ کے گرد گھومتا محسوس ہوتا ہے۔”
میڈیا کا یہ خود ساختہ غبارہ آخری لمحات میں پھٹتا ہے، تو لوگ کہتے ہیں:
اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی-
تھامس ٹوخل نے ویسے سچ ہی کہا تھا کہ انگلینڈ یہاں تک پہنچنے میں خوش قسمت رہا ہے۔ کروشیا کے خلاف میچ کے علاوہ ان کا گروپ اسٹیج کا کھیل، کانگو کے خلاف جدوجہد اور میکسیکو کے خلاف کمزوریاں واضح طور پر بتا رہی تھیں کہ یہ ٹیم اندرونی طور پر متوازن نہیں ہے۔ بالخصوص لیفٹ سائیڈ پر چار رائٹ فوٹرز کے ساتھ کھیلنا ٹیم کے توازن کو مسلسل متاثر کرتا رہا-
لیکن اس کے باوجود، برطانوی کمنٹیٹرز اور شائقین میں ہر فتح کے ساتھ وہی پرانا احساسِ برتری بیدار ہو جاتا ہے جس کا نشانہ
‘It’s coming home’
آج ایک بار پھر وہ ہوم کمنگ کا مذاق، حقیقت کے تھپڑ سے ادھورا رہ گیا اور ٹرافی ‘گھر’ آنے کے بجائے روٹھ کر سپین اور ارجنٹینا کے بیچ پہنچ گئی-
And English Team is Coming Home
اب کیا ہوگا
فٹبال کی دنیا اب سہمے دل کے ساتھ دیکھ رہی ہے کہ برطانوی ٹیبلائڈز اور سوشل میڈیا اس ہار ہار کا ملبہ کس پر گراتا ہے-
انگلینڈ کے فٹبال کلچر کا تاریک پہلو یہی ہے کہ جب کھلاڑی کامیابی دلاتے ہیں تو انہیں ‘نئے انگلینڈ’ کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، لیکن ناکامی کی صورت میں انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے انہیں میڈیا، سوشل میڈیا اور روزمرہ زندگی میں نسلی تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے-
اگر اس شکست کا ذمہ دار کوئی ہے تو وہ ان کا سو کالڈ جینیئس کوچ ہے-
دعا یہی ہے کہ سیمی فائنل کی شکست کا ذمہ دار تھامس ٹوخل کی ناقص ان گیم مینجمنٹ کو ٹھہرایا جائے، نہ کہ نوجوان کھلاڑیوں کو جنہیں ان کی رنگت اور نسل کی بنیاد پر آسان ہدف سمجھا جاتا ہے-

