اہم

امریکہ اور ایران کے مابین معاہدہ ’عملاً ختم‘، حملوں میں تیزی

جولائی 15, 2026

امریکہ اور ایران کے مابین معاہدہ ’عملاً ختم‘، حملوں میں تیزی

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر کے مفاہمتی یادداشت کی ’خلاف ورزی‘ کی ہے اور یہ معاہدہ اب ’عملاً ختم‘ ہو چکا ہے۔

گذشتہ چار روز سے امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے جاری ہیں۔ جہاں واشنگٹن اپنی فوجی کارروائیوں میں ایران کے ساحلی علاقوں کا نشانہ بنا رہا ہے، وہیں تہران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کرنے کے دعوے کیے ہیں۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کی تجارتی جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بدھ کی صبح اعلان کیا تھا کہ اُن کی افواج نے ایران میں فضائی اور بحری حملوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز کا بھی استعمال کیا ہے۔
اس سے قبل امریکی فوج کی جانب سے ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے رات کے وقت بھی ایک سات گھنٹے طویل کارروائی کی گئی تھی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات پاکستان اور قطر کی ثالثی میں جاری تھے، لیکن پھر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے تہران کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران سفارتکاری کا راستہ ترک نہیں کرے گا لیکن امریکہ کے ساتھ نئے مذاکرات کا آغاز بھی نہیں کرے گا۔

انھوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ’فوجی دباؤ ایران کو مذاکرات پر آمادہ کر سکتا ہے یا آبنائے ہرمز کے بارے میں اس کے مؤقف میں تبدیلی لا سکتا ہے۔‘

امریکہ کی جانب سے ایران کے فوجی اہداف پر حملوں کی نئی لہر شروع کیے جانے کے بعد ایران نے خطے کی دیگر اہم بحری تجارتی گزرگاوں کو بھی بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ اپنی ’جارحانہ کارروائیاں‘ ختم نہیں کرتا۔

ایرانی حکام نے خطے میں تیل اور گیس کی برآمد کے لیے استعمال ہونے والی دیگر اہم آبی گزرگاہوں کو بھی بند کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے