ڈیڈلائن ختم، پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی پر پشاور میں کس کو تشویش؟
پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کو واپس جانے کے لیے دی گئی ڈیڈلائن ختم ہو چکی ہے اور اب پشاور و گرد ونواح میں پکڑ دھکڑ جاری ہے-
گزشتہ دو برس کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں تناؤ کے باعث افغان پناہ گزینوں کو وطن واپس بھیجنے کے عمل میں تیزی آئی ہے- افغان پناہ گزین رضاکارانہ طور پر واپس نہیں جا رہے، اور اُنھیں حراست میں لینے کے لیے پولیس کی کارروائیوں میں شدت آ رہی ہے۔
پاکستان نے ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر سنہ 2023 میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزین کو ان کے ملک بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔
حکومت نے ملک میں موجود افغان پناہ گزین اور تاجروں کو ملک واپس جانے کے لیے رواں ماہ 10 جولائی کی ڈیڈ لائن رکھی تھی۔
سندھ اور پنجاب سے گزشتہ ایک سال میں لاکھوں کی تعداد میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو واپس اُن کے ملک بھیجا جا چکا ہے جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں اس وقت بھی ہزاروں پناہ گزین موجود ہیں-
حال ہی میں دو ہزار سے زیادہ افغان پناہ گزینوں کو حراست میں لے کر ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق ستمبر 2023 سے اب تک 24 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان چھوڑ چکے ہیں ان میں دو لاکھ ایسے ہیں جنھیں ڈی پورٹ کیا گیا ہے جبکہ باقی رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپس گئے ہیں۔
طورخم سرحد پر حکام کے مطابق ڈیڈ لائن سے قبل یومیہ 400 سے 600 افغان باشندے واپس جا رہے تھے، لیکن اب روزانہ 3400 سے 4100 افراد واپس جا رہے ہیں۔
محتاط سرکاری اندازوں کے مطابق پشاور میں لگ بھگ چار ہزار ایسے دکاندار یا تاجر رہ گئے ہیں جو افغان ہیں جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع میںان کی تعداد اب چند سو ہے-
دوسری جانب پاکستان میں رہ جانے اور چھپ کر زندگی گزارنے والے افغانوں کا کہنا ہے کہ وہ یہیں پیدا ہوئے تھے، اُن کے ماں باپ کی قبریں اسی مٹی میں ہیں، وہ افغانستان کے بارے میں کچھ جانتے ہیں اور نہ افغانستان میں اُن کا کوئی جاننے والا باقی بچا ہے-
ایسے افغان باشندوں کو تشویش ہے کہ طالبان کے زیرِانتظام افغانستان میں اُن کے بچوں کا مستقبل تاریک ہوگا اور انہوں نے زندگی میں پاکستان میں رہ کر جو کچھ بنایا وہ ختم ہو جائے گا-