اہم خبریں

تیل کی روزانہ نئی قیمت، پریس کانفرنس میں ’صحافی‘ کہاں‌ سے لائے گئے تھے؟

جولائی 18, 2026

تیل کی روزانہ نئی قیمت، پریس کانفرنس میں ’صحافی‘ کہاں‌ سے لائے گئے تھے؟

پاکستان کی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے کے اعلان کے بعد جمعے کی شب پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 50 پیسے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

ڈیزل کی نئی قیمت 354 روپے35 پیسے فی لیٹر ہو گی جبکہ پیٹرول کی نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہو گی۔

پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 18 جولائی کی رات 12 بجے سے ہوگیا جو 20 جولائی کی رات 12 بجے تک نافذ رہے گا۔

قبل ازیں جمعے کی شام اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اب سات روز کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں کا تعین کرے گی اور اس فیصلے کے ذریعے حکومت تیل کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے جا رہی ہے۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ اوگرا روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کر کے اسے اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے گی اور قیمتوں میں جو بھی اُتار چڑھاؤ ہو گا وہ فوری طور پر عوام کو منتقل کر دیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ کی گئی اس پریس کانفرنس پر صحافیوں نے سوالات اُٹھائے ہیں جس میں‌ متعلقہ شعبے کے رپورٹرز کو دعوت نہیں‌ دی گئی تھی-

پاکستان کے معتبر جریدے روزنامہ ڈان سے وابستہ سینیئر صحافی اور توانائی کے امور کے ماہر خلیق کیانی نے پریس کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف کی شفافیت کی پالیسی کے تحت آج وزیر پٹرولیم اور وزیر اطلاعات و نشریات کی مبینہ پریس کانفرنس میں موجود صحافی بھائیوں اور بہنوں کے نام اور ان کے اداروں کے نام شائع کریں۔ شکریہ‘

کورٹ رپورٹر ثاقب بشیر نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ یہ آئیڈیا کس کا تھا کہ کچھ ملازمین کو سامنے بٹھا کے، ظاہر کریں گے کہ یہ پریس کانفرنس صحافیوں کو سامنے بٹھا کر ہو رہی ہے-‘

ایکسپریس ٹریبیون سے وابستہ معاشی امور کے ماہر شہباز رانا نے پریس کانفرنس پر تبصرہ کیا کہ ’پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مکمل طور پر ضابطہ کار (ریگولیشن) سے آزاد کرنے کی جانب روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین شاید پہلا درست قدم ہو۔ لیکن اتنے بڑے اقدام کا اعلان—جسے حکومت ایک مثبت پیش رفت قرار دیتی ہے—پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام کے ذریعے نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ چونکہ اس تقریب کا مقام پی ٹی وی (PTV) کا ہیڈ کوارٹر تھا، اس لیے وزارتِ اطلاعات کو چاہیے تھا کہ وہ صحافیوں کو مدعو کرتی اور ایک براہِ راست پریس کانفرنس میں ان کے تمام سوالات کے جوابات دیتی۔ اس غلطی کی تلافی اب بھی ممکن ہے۔‘

انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’اگلا اہم ترین قدم قیمتوں کے تعین کے عمل میں اوگرا (OGRA) کے کردار کا جلد از جلد خاتمہ ہے۔ اوگرا حقیقی معنوں میں ایک خود مختار ریگولیٹر نہیں ہے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے