کھیل

’فٹبال کی فتح‘ اور ’اگرچہ 85ویں منٹ تک وہ ہم پر حاوی تھے لیکن —‘

جولائی 20, 2026

’فٹبال کی فتح‘ اور ’اگرچہ 85ویں منٹ تک وہ ہم پر حاوی تھے لیکن —‘

فٹبال کے عالمی کپ کے فائنل میں‌ میچ ختم ہونے کی سیٹی بجنے کے بعد کے مناظر نے شائقین اور مبصرین کو سکرین پر دکھایا کہ ارجنٹینا صرف میدان میں‌کھیلتے ہی نہیں‌ ہارا بلکہ اُس کے کھلاڑیوں نے باوقار انداز میں‌ شکست کو تسلیم کرنے کا حوصلہ اور اپنا وقار بھی کھو دیا ہے۔

فٹبال ورلڈ کپ 2026 میں سپین کی فتح کو بہت سے غیر جانبدار مبصرین ’فٹبال کی فتح‘ قرار دے رہے ہیں اور اس کی وجہ وہ شروع سے آخر تک میچ پر سپین کے کھلاڑیوں کے کنٹرول کو قرار دیتے ہیں۔

میچ ختم ہونے کی سیٹی کے بعد ارجنٹینا کے پاریڈیس، سپین کے روڈری، گاوی اور بورخا ایگلیسیاس کے ساتھ جھگڑے پر اُتر آئے جبکہ ان کے ساتھی کھلاڑی ناویل مولینا نے بھی ہارنے کے بعد میدان میں‌ گزرتے ہوئے سپین کے کھلاڑی کو مکا مارا اور یہ سب دنیا نے اپنی سکرین پر دیکھا۔

سابق انگلش فٹبالر وین رونی نے کہا کہ ’میچ ختم ہونے کے بعد اس قسم کی چیزیں دیکھنا شرمناک ہے۔ کسی کو ورلڈ کپ چیمپیئن کا تاج پہنایا گیا ہے۔ یہ قابل قبول نہیں۔‘

اس سے قبل میچ میں‌ بھی ارجنٹینا کے کھلاڑی سپین کی ٹیم کے کھیل کی وجہ سے فرسٹریشن کا شکار نظر آئے-

فرنانڈیز کو پہلے احتجاج کرنے پر پیلا کارڈ دکھایا گیا۔ پھر ایک انتہائی تاخیر سے کی گئی ٹیکل پر دوسرا پیلا کارڈ ملا، اس خطرناک فاؤل سے سپین کے کھلاڑی کوبارسی قلابازیاں کھاتے ہوئے گرے۔

ارجنٹینا کے کوچ لیونل سکیلونی نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں روتے ہوئے اپنی ٹیم کی کارکردگی کا دفاع کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ صرف یہی تسلیم کر سکے کہ بہتر ٹیم نے کامیابی حاصل کی۔

فرنانڈیز کو ریڈ کارڈ ملنے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ 85ویں منٹ تک وہ ہم پر حاوی تھے، میں جاننا پسند کروں گا کہ اگر ہمارے 11 کھلاڑی میدان میں موجود رہتے تو کیا ہوتا۔‘

’ہم آخر تک مقابلے میں رہے جب مقابلہ سخت تھا۔ لیکن وہ فتح کے مستحق تھے، یہی حقیقت ہے۔‘

ارجنٹینا ورلڈ کپ فائنل کو اضافی وقت تک لے جانے میں کامیاب ہو گیا لیکن اس سے ان کی کمزوری چھپ نہیں سکی۔

سابق انگلینڈ گول کیپر جو ہارٹ کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں روڈری کو ان کے سامنے جا کر اشتعال دلانے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ 120 منٹ تک آپ کو مشتعل کیا گیا ہو، آپ کو لگتا ہو کہ آپ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور ریفری مسلسل آپ کے خلاف رہا ہو۔‘

سابق انگلش کپتان ایلن شیرر کے مطابق ’اس میں کوئی شک نہیں کہ صحیح ٹیم ورلڈ کپ جیتی ہے۔ آغاز سے اختتام تک سپین نے گیند پر کنٹرول رکھا۔ یہ وہی ٹیم تھی جو فٹبال کھیلنے، مواقع پیدا کرنے اور دفاع کو توڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔‘

’یہ فٹبال کے لیے ایک نتیجہ ہے کیونکہ انھوں نے جس انداز سے کھیل پیش کیا، سپین اس کا مستحق تھا۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے