کھیل

فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے حاصلات، دس اہم چیزیں کیا رہیں؟

جولائی 20, 2026

فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے حاصلات، دس اہم چیزیں کیا رہیں؟

اتوار کے روز فٹبال کے ورلڈ کپ کا اختتام ہوا، جس میں سپین نے امریکی ریاست نیویارک کے نیو جرسی سٹیڈیم میں شائقین کے ہجوم کے سامنے کھیلے گئے فائنل میں ارجنٹائن کو اضافی وقت کے بعد 1-0 سے شکست دے کر چیمپئن کا اعزاز اپنے نام کیا۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اس ٹورنامنٹ کے چند اہم نکات یہ ہیں جس کی مشترکہ میزبانی امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو نے کی تھی:

48 ٹیموں کے ایک نئے، توسیع شدہ فارمیٹ کا مطلب رہا زیادہ میچز، ‌مزید گولز، اور مزید ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ لیکن بالآخر اس پر بڑی ٹیموں کا غلبہ رہا، سیمی فائنل میں‌ پہنچنے والی تمام چار ٹیمیں عالمی فٹ بال کی گورننگ باڈی FIFA کی سرفہرست چار درجہ بندی والی رہیں یعنی- ارجنٹینا، سپین، فرانس اور انگلینڈ ۔

تاہم اس ٹورنامنٹ میں کچھ نئی کہانیاں بھی رقم ہوئیں جب کیپ وردے نے شائقین کے دل اپنے کھیل جیت لیے- ناروے کے بینڈ بجا کر کھیلنے والے فٹبالر نے بڑی ٹیم کو باہر کیا-
مراکش اور افریقہ کی دوسری چھوٹی ٹیموں نے بڑے کھیل کا مظاہرہ کیا-

اور مصر کے ارجنٹینا کے خلاف کھیل کو بھولنے والے بھی کم ہی ہوں گے اور وہ بھی جنہوں‌ نے ریفری کے فیصلوں کو متنازع قرار دیا-

ٹورنامنٹ سے پہلے، ویزوں، اور مقامی دلچسپی کے فقدان پر تشویش نے بہت سے عالمی شائقین کو میزبانی میں امریکی کردار پر شکوک و شبہات کا شکار کر دیا تھا۔ لیکن بالآخر شائقین کو امریکیوں کی جانب سے پرتپاک خیرمقدم ملا جس کو گریٹ امریکن سلیپ اوور کے نام سے جانا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا امریکیوں کی ثقافتی پوسٹس سے بھرا ہوا تھا جس میں شائقین کی وزٹ کرنے کی روایات – یہاں تک کہ صبح کے بیگ پائپس – اور یورپی باشندے مفت سوڈا ریفلز کی خوشیوں کو دریافت کرتے دکھائی دیے۔

شریک میزبان کینیڈا میں مردوں کا فٹ بال برسوں سے اعلیٰ سطح پر پہنچنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے لیکن آخری 16 میں ٹیم کی پیشرفت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ اس کھیل میں سرمایہ کاری میں تیزی آ رہی ہے اور یہ کھیل اب ریکارڈ تعداد میں‌ شائقین کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔

امریکہ اور کینیڈا کے برعکس فٹبال میکسیکو میں پوری قوم کے لیے جوش و خروش دکھانے کا ذریعہ ہے۔ سٹیڈیم (زیادہ تر) کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے اور شائقین خوش تھے، خاص طور پر جب میکسیکو کھیلتا تھا۔ لیکن میکسیکو کی 40 برسوں میں پہلی ورلڈ کپ ناک آؤٹ جیت کے بعد شائقین کے جشن کے دوران ہجوم میں کچلے جانے چار اموات ہوئیں اور دوسری جانب مقامی معیشت کو اس میزبانی سے طویل مدتی فائدے کے بہت کم آثار نظر آئے۔

امریکی شائقین اس بات پر مایوس تھے کہ ان کی ٹیم راؤنڈ آف 16 میں دوبارہ باہر ہو گئی، صدر ٹرمپ کی متنازع مداخلت کے باعث ان کے سرکردہ سٹرائیکر کو پچھلے میچ سے ریڈ کارڈ کی معطلی کے نتیجے میں آخر میں تھوڑا سا فرق پڑا۔ لیکن تمام ہائپ ختم ہو گئی، ایک حقیقت باقی رہ گئی: ٹیم نے توقعات کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

گزشتہ ٹورنامنٹس کے مقابلے میں سٹیڈیم کے ٹکٹوں کی زیادہ قیمتوں پر کافی برہمی پائی گئی۔ تاہم سٹیڈیم میں شائقین کی تعداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر لوگ یہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ تھے۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ ورلڈ کپ دیکھنے جانا صرف خوشحال شائقین یا کھیل کے انتہائی دیوانے مداحوں کے لیے ہی ممکن رہ گیا ہے۔

محنت کش طبقے کے علاوہ، ویزا پابندیوں کا سامنا کرنے والے ممالک کے شائقین بھی ورلڈ کپ دیکھنے سے محروم رہے۔ البتہ، بیرونِ ملک مقیم تارکینِ وطن اور امریکی شائقین کی حمایت نے سٹیڈیم میں تماشائیوں کی تعداد کو برقرار رکھنے میں مدد دی، کم از کم کسی حد تک تو ضرور۔

فیفا (FIFA) کے قوانین سٹیڈیم میں سیاسی نوعیت کے مظاہروں کی ممانعت کرتے ہیں۔ لیکن جب ایسے واقعات پیش آئے تو حکام کی جانب سے کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا اور کھیل کا سلسلہ جاری رہا۔
فٹبال کا ‘امریکی رنگ’ اختیار کرنا—خاص طور پر پانی پینے کے وقفے (hydration breaks) اور فائنل کے دوران ہاف ٹائم شو—کچھ حلقوں میں ناراضی کا باعث بنا۔
ناقدین کا کہنا تھا کہ نشریات کے دوران اشتہارات کی زیادہ گنجائش پیدا کرنے کی خاطر میچ کے قدرتی بہاؤ کو توڑا گیا۔
تاہم کوچز نے ان وقفوں کو حکمتِ عملی کے مواقع کے طور پر استعمال کیا، اور بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے تناظر میں، ہو سکتا ہے کہ یہ نئے طریقے مستقبل میں بھی برقرار رہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے