امریکہ میں ساحل پر اُترتا طیارہ تباہ مگر مسافر زندہ بچ نکلے، عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟
پرواز چلانے والی کمپنی نے بتایا ہے کہ واشنگٹن اور کینیڈا کی سرحد کے قریب ایک دور افتادہ جزیرے پر گر کر تباہ ہونے والے فلوٹ پلین (پانی پر اترنے والے طیارے) کے پائلٹ نے حادثے سے قبل طوفان سے بچنے کے لیے اپنا راستہ تبدیل کیا تھا۔
اس حادثے میں طیارے میں سوار تمام 11 افراد زخمی ہو گئے تھے تاہم، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حادثے کس وجہ سے پیش آیا۔
کینمور ایئر کا سمندری طیارہ جمعرات کی شام کو سان جوآن جزیرے کے شمال میں واقع ریاستی پارک سوسیا جزیرے کے ساتھ ایک چٹانی ساحل سے ٹکرا گیا تھا، اس کے پائلٹ نے کریش لینڈنگ کرتے ہوئے قریب موجود بادبانی کشتیوں اور دیگر بحری جہازوں کو بچانے کی کوشش کی۔
حادثے کے بعد قریب موجود کشتیوں اور ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے فوری ریسکیو نے تمام مسافروں کو بحفاظت ہسپتالوں میں پہنچا دیا۔
جمعے کی سہ پہر تک تین مسافر ہسپتال میں داخل تھے، اور سب کی حالت تسلی بخش تھی۔ جن کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا اُن میں پائلٹ بھی شامل تھا۔
سان جوآن کاؤنٹی شیرف کے دفتر نے کہا کہ مسافروں کے سر پر چوٹیں آئیں، کچھ کی ہڈیاں ٹوٹیں اور کچھ کو کٹ لگے ہوئے تھے۔
یہ حادثہ گزشتہ ایئر کریش کے تین ہفتوں سے بھی کم وقت میں پیش آیا جب ایک سمندری جہاز جس میں آٹھ افراد سوار تھے، نے نیویارک شہر کے مشرقی دریا میں ہنگامی لینڈنگ کی، جس سے مسافر معمولی زخمی ہوئے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ طیارہ کئی کشتیوں اور ساحل کے قریب پانی کے اوپر سے نچلی پرواز کرتے ہوئے ایک طرف مڑتا ہے۔ ہوائی جہاز کریش لینڈنگ کرتا ہے، پہلے صرف ایک فلوٹ پر نیچے اترتا ہے، پھر زمین سے ٹکرانے سے پہلے ہوا میں ایک سیکنڈ کے لیے اچھلتا ہے۔
سان جوآنس واشنگٹن اور برٹش کولمبیا کے درمیان ایک ناہموار جزیرہ نما ہے۔ یہ موسم گرما کی تعطیلات کا ایک مشہور مقام ہے جو فیریز، وہیل دیکھنے اور پیدل سفر کے لیے جانا جاتا ہے۔
امدادی کارکنوں اور عینی شاہدین نے کیا دیکھا
جب طیارہ قریب آیا تو ڈیو ایسٹمین پانی میں موجود اپنی چھوٹی کشتی (ڈنگھی) میں سوار تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں پہلے تو خدشہ ہوا کہ طیارہ ان کی کشتی سے ٹکرا جائے گا، لیکن پھر انہوں نے اسے جزیرے کی جانب کم بلندی پر پرواز کرتے دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں چھ یا سات کشتیاں موجود تھیں اور ہر کوئی مدد کے لیے تیزی سے وہاں پہنچا۔
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے سے سیاہ دھواں اٹھ رہا ہے اور مسافر باہر نکل رہے ہیں۔ جلد ہی تیز نارنجی رنگ کے شعلوں نے طیارے کے مرکزی حصے (فیولاج) کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جو ایک بڑی چٹان سے ٹکرا کر جزوی طور پر پانی میں ڈوب گیا تھا۔

