دہلی کے جنتر منتر سے کشمیر کے راولاکوٹ تک، علی ارقم کا کالم
راولاکوٹ سے آنے والی اطلاعات تشویشناک ہیں، سردست معلومات کی فراہمی کے محدود ذرائع اور چارجڈ سیاسی ماحول کے باعث واقعات کی ترتیب اور جانی نقصانات کے بارے میں، قطعیت سے کچھ نہیں کہا جاسکتا، لیکن اس حقیقت سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں کہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر ایک سنجیدہ سیاسی بحران سے گزر رہا ہے، اور اس بحران میں انسانی جانوں کا ضیاع افسوسناک اور باعثِ تشویش ہے-
یہ تشویش صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں-
گزشتہ دو دہائیوں میں بلوچستان مسلسل تشدد، مزاحمت اور جوابی کارروائیوں کا ایک ایسا منظرنامہ پیش کرتا ہے، جس کا کوئی پائیدار سیاسی حل سامنے نہیں آ سکا-
خیبر پختونخوا دہشت گردی، عسکریت، انسدادِ عسکریت اور سماجی بے یقینی کے ایک طویل دائرے میں گھوم رہا ہے۔ اگر اب آزاد کشمیر بھی ریاست اور شہریوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کی ایک نئی مثال بننے لگے تو سوال صرف ایک خطے کا نہیں رہتا، بلکہ ریاست کی مجموعی سیاسی حکمتِ عملی کا بن جاتا ہے-
کیا ہر سیاسی بحران کو سلامتی کے بحران میں تبدیل کر دینا، ہر اختلاف کو نظم و نسق کے بجائے قومی بقا کا مسئلہ بنا دینا، اور ہر احتجاج کو ریاستی اختیار کے امتحان میں بدل دینا، ہمارے سماج کے لیے زہر قاتل نہیں اور ہماری اجتماعی سیاسی دانش پر سوال نہیں؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستانی سیاسی لغت میں ایک اصطلاح بار بار سنائی دینے لگی ہے: "ہارڈ سٹیٹ”-
اس اصطلاح کی ظاہری معنویت اس وقت زیر بحث نہیں، ہر ریاست قانون نافذ کرتی ہے، مسلح گروہوں کو چیلنج کرتی ہے، شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرتی ہے اور اپنی آئینی عملداری قائم رکھتی ہے۔ مسئلہ ریاست کی مضبوطی میں نہیں، بلکہ اس تصور کی عملی تعبیر میں ہے-
دو تین دن قبل صحافی و تجزیہ کار احسان اللہ ٹیپو محسود نے ٹوئٹر پر لکھا:
"Militants feel so undeterred these days that they appear capable of striking at a time and place of their own choosing.”
اس لیے اگر ایک مسلح گروہ جو عام شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، ریاستی نظم کو تباہ کرنا چاہتا ہے، یا آئینی سیاسی عمل کو مسترد کرتا ہے، اس کے خلاف ریاستی سختی سمجھ آتی ہے
لیکن اگر کوئی وفاقی اکائی، علاقہ یا سیاسی گروہ معاشی حقوق، نمائندگی یا آئینی مسائل اٹھاتا ہے، تو اسے صرف سیکیورٹی مسئلہ بنا دینا مسائل کو مزید پیچیدہ کر دیتا ہے-
اس لیے دہشتگردی کے خلاف کوئی بیانیہ یا عملی اقدام ٹھیک، لیکن اگر رفتہ رفتہ یہی ذہنیت بن جائے کہ ہر احتجاج کے پیچھے بیرونی سازش تلاش کی جائے، ہر اختلاف کو قومی سلامتی کے عدسے سے دیکھا جائے، ہر شخص منہ کھولنے وقت پہلے اپنی حب الوطنی ثابت کرنے پر مجبور ہو، اور ہر ناقد کو کسی "دشمن منصوبے” کا حصہ سمجھا جائے، تو پھر بحث ریاستی طاقت کی نہیں رہتی؛ وہ سیاست کے تصور کی بحث بن جاتی ہے-
کئی برس پہلے، دو ہزار نو دس میں معاشی و سیاسی مسائل کے گرداب میں پھنسے پاکستان کے بارے میں ایک بائیں بازو کے دانشور دوست نے لکھا کہ پاکستان ویمار ریپبلک (Weimar Republic) بنتا جا رہا ہے،
اس وقت یہ جملہ سیاسی ریٹورک محسوس ہوتا تھا-
آج محسوس ہوتا ہے کہ اصل سوال کبھی یہ تھا ہی نہیں کہ پاکستان ویمار کے جرمنی جیسا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ تھا کہ کیا ہم بھی آہستہ آہستہ اس سیاسی منطق کے زیرِ اثر آ رہے ہیں جنہوں نے کبھی ویمار کی جرمن جمہوریہ کو اندر سے کمزور کر دیا تھا؟
ظاہر ہے،تاریخ کبھی لفظ بہ لفظ خود کو نہیں دہراتی، نہ آج کا پاکستان انیس سو بیس تیس کی دہائیوں کا جرمنی ہے، نہ ہماری سماجی ساخت، بین الاقوامی ماحول، آئینی ارتقا یا سیاسی تاریخ ایک جیسی ہے۔ تاریخ کو تشبیہات کے ذریعے سمجھنا درست نہیں ہے-
لیکن تاریخ کا سبق ضرور ہے-
واقعات شاید نہ دہرائے جائیں، مگر ان کے رونما ہونے کی سیاسی منطق (Political Logics) مختلف معاشروں میں نئے سیاق و سباق کے ساتھ واپس آ سکتی ہے،
اسی لیے ویمار کا جرمنی آج بھی صرف جرمن مورخین کا موضوع نہیں بلکہ سیاسی نظریے کا مستقل حوالہ ہے-
پہلی جنگِ عظیم کی شکست، ورسائی معاہدے کی قومی ذلت، تباہ کن افراطِ زر، بے روزگاری، مسلسل گرتی حکومتیں، سڑکوں پر نیم فوجی تنظیموں کا تشدد، اور جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد کا زوال، ان تمام عوامل نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں غیر معمولی سیاسی نظریات کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہونے لگی-
اسی ماحول میں جرمن قانون دان کارل شمٹ (Carl Schmitt) نے یورپ میں رائج لبرل جمہوریت پر اپنی مشہور تنقید پیش کی، شمٹ کے نزدیک سیاست کی بنیاد نہ قانون تھا، نہ اخلاقیات، نہ پارلیمانی مباحث، نہ اتفاقِ رائے،
اس کے نزدیک سیاست کی اصل بنیاد صرف ایک خط امتیاز تھا، دوست اور دشمن کی تمیز-
شمٹ کے مطابق ہر سیاسی برادری بالآخر یہ فیصلہ کرتی ہے کہ "ہم کون ہیں” اور "ہمارا دشمن کون ہے”۔ اس کے نزدیک یہ صرف نظریاتی اختلاف نہیں بلکہ ایک ایگزسٹنشل تقسیم تھی-
ایک ایسی تقسیم جس میں اختلافی رائے رکھنے والا، مخالف یا فریق بن جاتا ہے جس کے ساتھ سیاسی بقائے باہمی ہی مشکل ٹھہرا دیا جائے-
یہ تصور محض ایک فلسفیانہ خیال نہیں تھا، انیس سو تینتیس (1933) میں جب نازی طاقت میں آئے تو شمٹ نے صرف ان کی حمایت کی، بلکہ نازی پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اپنی آئینی مہارت کو نئی حکومت کو سند جواز دینے کیلئے استعمال کیا-
کچھ لوگ اس کی لبرل ازم پر تنقید کے مداح ہیں لیکن اکثر سماجی ماہرین اسے بیسویں صدی کی آمرانہ سیاست کے اہم ترین نظریاتی معماروں میں شمار کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ شمٹ اس حد تک درست تھا کہ سیاست سے اختلاف کو ختم نہیں کیا جا سکتا، لیکن ہر اختلاف کو دشمنی میں بدلنا خطرناک ہے، جمہوریت کی کامیابی اسی میں ہے کہ مخالف کو دشمن نہیں بلکہ ایک جائز سیاسی حریف سمجھا جائے-
جمہوری عمل میں سیاسی مخالف حریف (Adversaries) ہوتے ہیں، ازلی دشمن (Enemies) نہیں-
لیکن جب کوئی ریاست اور اس کی پراپیگنڈا مشینری اختلاف کو "ہم” اور "وہ” کی زبان میں بیان کرنے لگے، جب وفاداری کا امتحان سیاسی مکالمے پر غالب آ جائے، جب شہری پہلے اپنی حب الوطنی ثابت کریں اور اس کے بعد اپنی رائے دینے کا حق حاصل کریں، تو سیاست آہستہ آہستہ اپنے جمہوری معنی کھونے لگتی ہے-
پھر کارل شمٹ کا ایک اور معروف تصور جگہ لے لیتا ہے، شمٹ کے نزدیک خودمختار وہی ہے جو یہ فیصلہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے کہ غیرمعمولی حالت (State of Exception) کب پیدا ہوئی اور اس میں کیا اقدام کیا جائے-
اطالوی فلسفی جورجو اگامبن کہتے ہیں کہ جدید ریاستوں میں (مخصوص سیاق و سباق میں حاصل کیا گیا) یہ "استثنا” بعض اوقات مستقل طرزِ حکمرانی میں تبدیل ہونے لگتا ہے؛ جہاں غیر معمولی اختیارات عارضی نہیں رہتے بلکہ معمول بن جاتے ہیں
اس تشریح سے اتفاق یا اختلاف ممکن ہے، لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے-
کیا ریاست کی طاقت کی اصل آزمائش غیر معمولی اختیارات کے استعمال میں ہے، یا اس صلاحیت میں کہ وہ معمول کے آئینی اور سیاسی عمل کو زندہ رکھ سکے؟
پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ سوال محض نظری نہیں رہا۔
بلند مہنگائی، محدود معاشی نمو، نوجوانوں میں بے یقینی، وفاق اور اکائیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی بے اعتمادی، اور مختلف علاقوں کے الگ الگ سیاسی شکوے، یہ سب کسی بھی معاشرے میں اضطراب پیدا کرتے ہیں-
بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر ایک جیسے نہیں-
ان کی تاریخ الگ ہے، ان کے مطالبات مختلف ہیں اور ان کے سیاسی سیاق بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان سب کو ایک ہی زاویے سے دیکھنا کسی طور درست نہیں، لیکن ایک قدرِ مشترک ضرور دکھائی دیتی ہے-
جب ہر بحران کا بنیادی جواب طاقت، گرفتاری، پابندی اور بیانیے کی پیداکردہ تقسیم میں تلاش کیا جائے تو مسائل حل ہونے کے بجائے اکثر نئی شکل اختیار کر لیتے ہیں،
ایک مضبوط ریاست اور سخت گیر ریاست ایک ہی چیز نہیں ہوتیں۔
ایک مضبوط ریاست اپنی قانونی قوت کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی بصیرت سے بھی پہچانی جاتی ہے۔ وہ قانون نافذ کرتی ہے، مگر مکالمے کے دروازے بھی کھلے رکھتی ہے۔ وہ امن قائم کرتی ہے، مگر اختلاف کو غداری میں تبدیل نہیں کرتی۔ وہ شہریوں سے اطاعت کا مطالبہ ضرور کرتی ہے، مگر ان سے تعلق صرف خوف کے ذریعے قائم نہیں کرتی
ویمار کے جرمنی کا سب سے بڑا سبق شاید یہ نہیں کہ وہاں ہٹلر آیا تھا-
اصل سبق یہ ہے کہ جب معاشی اضطراب، سیاسی بے اعتمادی اور سماجی تقسیم ایک دوسرے کو تقویت دینے لگیں تو معاشرے آہستہ آہستہ اس زبان کے عادی ہو جاتے ہیں جس میں ہر اختلاف خطرہ، ہر احتجاج سازش اور ہر مخالف دشمن دکھائی دینے لگتا ہے-
وفاق صرف انتظامی تقسیم کا نام نہیں، وفاق ایک سیاسی وعدہ ہے-
اس وعدے کا مطلب یہ ہے کہ مختلف علاقے، زبانیں، ثقافتیں اور سیاسی ترجیحات رکھنے والے لوگ خود کو ایک مشترک ریاستی منصوبے کا حصہ محسوس کریں،
لیکن اس کے لیے شمٹ کی پیروی چھوڑ کر ہنّا آرنٹ (Hannah Arendt) کو سننا پڑے گا، وہ کہتی ہیں کہ سیاست کا بنیادی جوہر دشمن کے تعین اور شناخت میں نہیں بلکہ مشترک دنیا (Common World) کی تعمیر میں ہے۔ انسان سیاسی مخلوق اس لیے نہیں کہ وہ کسی دشمن کے خلاف متحد ہو، بلکہ سیاست عوامی دائرے (Public Sphere) میں آزادی، مکالمے اور اشتراکِ عمل کا نام ہے-
ان کے نزدیک انسانیت کی بقا اور ریاست کا دوام اس میں ہے کہ مختلف خیالات، زبانوں اور خطوں کے لوگ ایک "مشترک دنیا” (Common World) کی تعمیر کے لیے ایک دوسرے کو برداشت کریں اور مل کر آئینی حدود کے اندر راستہ نکالیں-
پڑوسی ملک کو ہی دیکھ لیں، مودی واد کا سارا بیانیہ ہم اور وہ کی تقسیم پر کھڑا ہے، جنتر منتر میں ایک ذرا سے عوامی مظاہرے نے اس تقسیم کا فریب کھول کر رکھ دیا، کیا ہندو، کیا سکھ، کیا مسیحی، کیا مسلمان، مشترکہ امکانات کی جستجو میں سب ساتھ رہے-
التجا ہے کہ لوگوں کو سیاست کرنے دیں، انہیں مشترک دنیا کے امکانات ڈھونڈنے دیں، یہ جو ہمہ وقت دشمن تراشنے میں لگے ہیں، اس سے ساری توانائی کسی کو کسی نہ کسی دائرے سے خارج کرنے میں ہی لگ رہی ہے-
اب کیا یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ آپ ایسا نہیں چاہتے ہیں-

