نیا ’ریجنل آرڈر‘ اور ’اسلامی فریم ورک‘، کویت اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون
کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کے تین سال بعد اسے اپنے قانون کا حصہ بنانے کا شاہی فرمان جاری کیا ہے۔ اور پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح 28 سے 29 جولائی تک اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔
کویت کے شاہی فرمان کے مطابق اس معاہدے کے ذریعے پاکستان اور کویت کی مسلح افواج کے درمیان تعاون کا ایک فریم ورک قائم ہو گا جس میں فوجی تربیت، تعلیم، انٹیلی جنس، لاجسٹکس، دفاعی ٹیکنالوجی، تحقیق اور مہارت کے تبادلے پر توجہ دی جائے گی۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ’فوجی ادارہ جاتی تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔‘
دونوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پایا تھا جسے فرمان جاری کر کے اب منظور کیا گیا ہے۔
پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے پر کویت میں پاکستانی سفیر ملک فاروق اور کویتی وزارتِ دفاع کے جوائنٹ پلاننگ ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل فواز خضیر محمد الحربی نے دستخط کیے تھے۔
اس وقت دونوں فریقین کی طرف سے امید کی گئی تھی کہ یہ معاہدہ ’دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔‘
مشرق وسطٰی کی صورتحال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات نے کویت کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے امریکہ اور دیگر قوتوں کی طرف دیکھنے کے ساتھ علاقائی اتحادیوں میں فوجی قوت کی تلاش کرے اور اس پر بھی انحصار کرے یا کم از کم اس کا اشارہ دے-
بعض سکیورٹی ماہرین نے اس کو نیا علاقائی یا ریجنل آرڈر قرار دیا جس نے ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے بعد کی صورتحال میں جنم لیا ہے، جبکہ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک ’اسلامی فریم ورک‘ ہے جس کی طرف مشرق وسطٰی یا خلیجی ملک آ رہے ہیں اور اس میں پاکستان، ترکی اور مصر جیسی فوجی قوتیں اہمیت رکھتی ہیں-
معاہدے کی پہلی شق کے مطابق اس کا مقصد ’دفاع اور مسلح افواج کی تربیت کے شعبوں میں تعاون کی بنیادوں کا تعین کرنا ہے‘ جو ’مقامی قوانین اور ضوابط کے مطابق اور ان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت انجام دیا جائے گا۔‘
دوسری شق میں مختلف شعبوں میں تعاون کا ذکر ہے جیسے فوجی تربیت اور لاجسٹکس، اہلکاروں اور مہارت کا تبادلہ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان اور کویت ٹیکنالوجی اور فوجی انٹیلیجنس کے شعبوں میں تعاون کریں گے۔
دفاعی تعاون معاہدے کی تیسری شق میں عملدرآمد کے اصول وضع کیے گئے ہیں جس کے تحت دونوں ملکوں کے ’باہمی مفاد‘ اور ’ضروریات‘ کو مدنظر رکھا جائے گا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقین مشترکہ سرگرمیوں کے لیے عملدرآمد کے سالانہ منصوبے بنائیں گے۔
چوتھی شق میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کی وزارت دفاع معاہدے پر عملدرآمد کی ذمہ دار ہوں گی۔ پانچویں شق میں مشترکہ فوجی کمیٹی کے قیام کا ذکر ہے جس کے سالانہ اجلاس ہوں گے۔ چھٹی شق مشترکہ سرگرمیوں سے متعلق حساس معلومات کو خفیہ رکھنے جبکہ ساتویں شق انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے بارے میں ہے۔ آٹھویں شق مالیاتی انتظام کے بارے میں ہے۔
اس معاہدے کی نویں شق اہمیت کی حامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ ‘کسی بھی فریق کے اُن حقوق یا ذمہ داریوں پر اثر انداز نہیں ہو گا جو دیگر بین الاقوامی معاہدوں کے تحت ان پر عائد ہوتے ہیں۔’
10ویں شق کے مطابق ‘اگر معاہدے کی دفعات کی تشریح یا ان کے اطلاق کے حوالے سے کوئی تنازع پیدا ہوتا ہے تو اسے دونوں فریقین کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کیا جائے گا۔ اس تنازعے کو تصفیے کے لیے کسی تیسرے فریق یا کسی مقامی یا بین الاقوامی عدالت کے سپرد نہیں کیا جائے گا۔
‘تنازعے کے تصفیے کے دوران دونوں فریق اس معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے، سوائے ان ذمہ داریوں کے جو تنازعے یا اختلاف کا موضوع ہوں۔’
11ویں شق کے مطابق ‘اس معاہدے میں کسی بھی وقت دونوں فریقوں کی تحریری رضامندی سے ترمیم کی جا سکتی ہے۔’
12ویں اور آخری شق کے مطابق ‘معاہدے کے نفاذ، اس کے خاتمے کے طریقۂ کار، اس کی مدت اور تجدید سے متعلق حتمی دفعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔’
اس میں کہا گیا کہ ‘چونکہ یہ معاہدہ دونوں فریقین کے مفادات میں ہے لہذا یہ عرب اور بین الاقوامی شعبوں میں ریاستِ کویت کی ذمہ داریوں سے متصادم نہیں۔’