کربلا اور نینوا میں پاپولر موبلائزیشن فورسز کے ٹھکانوں پر سعودی حمایت سے امریکی بمباری
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ کارروائی کا اعلان کیا جس کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب نے عراق کے صوبوں کربلا اور نینوا میں پاپولر موبلائزیشن فورسز کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
پاپولر موبلائزیشن فورسز عراق کی شیعہ ملیشیاؤں اور نیم فوجی گروہوں کا ایک اتحاد ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے اور جس کے پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے ساتھ قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔
ایران اسے خطے میں اپنے اتحادی نیٹ ورک، جسے عموماً ’محورِ مزاحمت‘ کہا جاتا ہے، کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔
عراق کی حکومت نے ان حملوں پر تاحال باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم ایک روز قبل بغداد نے کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کے اس الزام کی تحقیقات کرے گا کہ عراق کی سر زمین سے سعودی تنصیبات پر ڈرون حملے کیے گئے تھے، اور ایسی کارروائیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ادھر پاپولر موبلائزیشن فورسز نے امریکہ اور سعودی عرب کی کارروائی کے بعد ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی عراق میں اس کے ٹھکانوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاپولر موبلائزیشن فورسز نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم ان حملوں کو انتہائی خطرناک اشتعال انگیزی، عراق کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی اور ملک کے سرکاری سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانے کے مترادف سمجھتے ہیں۔‘

