صحافی نہ صرف تاریخ قلم بند کرتے بلکہ اپنی رپورٹنگ سے تاریخی فیصلوں میں کردار بھی ادا کرتے ہیں: پاکستانی سفیر برائے امریکہ
امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے پاکستانی امریکی صحافیوں کی نمائندہ تنظیم ”پاپا“ کی جانب سے امریکہ پاکستان یوم آزادی کی مشترکہ تقریب سے خطاب میں قرار دیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات نے گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں میں کئی نشیب و فراز دیکھے، تاہم موجودہ دور میں دوطرفہ تعلقات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر دکھائی دے رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اس مثبت ماحول کو دیرپا اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے تعلقات میں مضبوط اقتصادی مواد شامل کرنا ضروری ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات پاکستان کے قیام کے آغاز ہی سے قائم ہیں۔ انہوں نے 11 اگست 1947 کو امریکی صدر کی جانب سے قائداعظم محمد علی جناح کو بھیجے گئے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ابتدا ہی سے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں رہے ہیں۔
سفیر نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات نے ’’بہترین اور بدترین دونوں ادوار‘‘ دیکھے ہیں اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب مبصرین اور صحافی دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ ’’طلاق‘‘ کی باتیں کرنے لگے تھے۔ تاہم ان کے مطابق یہ تعلق کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا کیونکہ پاکستان اپنی جغرافیائی، علاقائی اور اسٹریٹجک اہمیت کے باعث امریکا کے لیے اہم رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف اپنے داخلی استحکام بلکہ وسیع تر خطے کے امن و استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حالیہ پیش رفت بھی پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور خطے میں اس کے کردار کے اعتراف کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستانی سفیر نے موجودہ تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’سچ یہ ہے کہ گزشتہ 79 برسوں میں یہ تعلق کبھی اتنا اچھا دکھائی نہیں دیا۔ لیکن صرف اچھا دکھائی دینا کافی نہیں، ہمیں اسے عملی طور پر بھی کامیاب بنانا ہوگا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ موجودہ مثبت ماحول پر مطمئن ہوکر بیٹھنے کی گنجائش نہیں بلکہ اسے ایک موقع کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ دونوں ممالک کی توجہ اب پاک امریکا تعلقات میں اقتصادی تعاون کو مرکزی حیثیت دینے پر مرکوز ہے۔
سفیر کے مطابق امریکا پاکستان کے ساتھ ایسی اسٹریٹجک شراکت داری چاہتا ہے جس کی بنیاد مضبوط اقتصادی تعلقات پر ہو۔ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر مبنی تعلق ہی ایسا پائیدار فریم ورک فراہم کرسکتا ہے جو حکومتوں، سفیروں اور موجودہ نسلوں کی تبدیلی کے باوجود قائم رہے۔
انہوں نے پاکستانی نژاد امریکی صحافیوں اور میڈیا کمیونٹی کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ صحافی نہ صرف موجودہ تاریخ کو قلم بند کرتے ہیں بلکہ اپنی رپورٹنگ، تجزیوں اور آرا کے ذریعے مستقبل میں اس دور کے بارے میں قائم ہونے والے تاریخی فیصلے میں بھی حصہ ڈالتے ہیں۔
انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ پاک امریکا اقتصادی تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی پیشہ ورانہ آرا اور تجزیوں کے ذریعے ضروری ’’کورس کریکشن‘‘ کی نشاندہی بھی کرے۔
تقریب میں امریکا کے قیام کے 250 سال اور پاکستان کی آزادی کی 79ویں سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے سفیر نے پاک امریکا دوستی کے مزید فروغ کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا پائیدار تعلق قائم کرے جس کے ثمرات مستقبل کی پاکستانی نژاد امریکی نسلیں بھی حاصل کرتی رہیں۔
تقریب میں امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد صحافیوں کو پیشہ وارانہ خدمات کے اعتراف میں امریکی پاکستانی صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاپا کی جانب سے تعریفی اسناد سے نوازا گیا ، ڈان اخبار واشنگٹن ڈی سی کے نمائندہ خصوصی انور اقبال اور جیو نیوز امریکہ کے نمائندہ خصوصی عظیم میاں کو لائف ٹائم ایچومنٹ ایوارڈز پیش کیے گئے جبکہ امریکہ کی مختلف ریاستوں میں قائم پاکستانی نژاد امریکیوں کے اخبارات ڈیجیٹل میڈیا اور ٹیلی وژن سے منسلک درجن بھر دیگر افراد کو بھی ان کی پیشہ وارانہ کارکردگی پر اعزازات سے نوازا گیا۔

