اہم خبریں

اربوں روپے کی سگریٹ سمگلنگ، سینیٹرز کے کمیٹی اجلاس پر ایک دوسرے پر ذاتی حملے

اگست 8, 2026

اربوں روپے کی سگریٹ سمگلنگ، سینیٹرز کے کمیٹی اجلاس پر ایک دوسرے پر ذاتی حملے

پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا (سینٹ) کی کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈپٹی ڈائریکٹر افضل نیازی نے بتایا کہ سیگریٹ سمگلنگ اور چوری کے معاملے انکوائری شروع کی ہے اور ہم نے کمیٹی کے ذریعے بھی ریکارڈ حاصل کیا۔

انہوں نے بتایا کہ انکوائری میں ایف بی آر کے افسر کو قصوروار قرار دیا گیا۔ ڈپٹی کلکٹر فہیم رشید سمیت تین افسروں کے خلاف انکوائری کی۔ پیرا ماونٹ کمپنی کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی ہے۔ ہم نے اپنی انکوائری رپورٹ ایف بی آر کو بھجوا دی ہے۔ ایف بی آر کے بورڈ اجلاس کے بعد مقدمہ درج ہو گا۔

کمیٹی کے کنوینئر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پوچھا کہ سیگریٹ کے اشتہار پاکستان ٹوبیکو کمپنی جاری کرتی ہے۔ ٹوبیکو کمپنیاں کتنی ہیں۔ کس نام سے آپریٹ کرتی ہیں۔ ٹیکس کتنا دیتی ہیں۔ یہ تمام تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔ پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے پیچھے کون ہے۔ لگتا ہے ان کے پیچھے بڑے لوگ ہیں۔تب ہی تو ایف بی آر کی جانب سے کوئی تفصیل نہیں دی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کو سلطان راہی یا مصطفی قریشی نہیں ہے کہ دباؤ ڈالیں۔

کمیٹی میں‌ سکرین پر وزاعظم اور خواجہ آصف کے سگریٹ پر ٹیکس چوری والے اشتہار چلوائے گئے۔

سیف اللہ ابڑو مجھے غلط ثابت کریں میں استعفیٰ دے جاؤں گا۔ کوئی بھی ڈیپارٹمنٹ ہو، اچھے لوگ ابھی موجود ہیں، محکمے اچھے لوگوں سے خالی نہیں ہیں۔
پارلیمنٹ میں بھی ہر کوئی بھی غلط نہیں۔ممبر کسٹم باسط عباسی کو سراہتے ہیں، ہمیں ڈیٹا نہیں مل رہا تھا کہ فاٹا اور پاٹا 1120 بلین کی امپورٹ کی گئی۔ یہ خام مال اس علاقے میں امپورٹ کیا گیا جہاں کوئی فیکٹری نہیں، یہ سارا ڈیٹا 2018 سے 2021 تک کا ہمیں فراہم کیا گیا۔ حیران کن بات ہے فاٹا اور پاٹا میں 114ارب کا غیر ملکی کپڑا منگوایا گیا۔ جہاں حالات معاشی طور پر خراب ہیں وہاں غیر ملکی کپڑا منگوایا جارہا ہے۔

کمیٹی کے کنوینئر نے کہا کہ ایف بی آر کے مطابق پکڑے جانے والے سیگریٹس کا سینٹر فیصل اور دلاور سے کوئی تعلق نہیں۔
سینیٹر طلحہ نے اس موقع پر کہا کہ خبر چلانے کے معاملے اے بی این اور رپورٹر کا کوئی قصور نہیں۔ میڈیا چینل اور رپورٹر استعمال ہوا ہے۔ میں میڈیا کے حوالے سے سٹینڈ لوں گا۔
اس کمیٹی کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ سینٹر دلاور اس کمیٹی میں شامل ہیں۔ سینٹر دلاور کو اس کمیٹی میں نہیں آنا چاہیے۔
یہ نہ تو ممبر نہ ان کو مدعو کیا گیا کیوں یہ آئے اسی وجہ سے الزامات لگ رہے ہیں۔ ہماری شخصیت داغدار ہو رہی ہے۔ ہمارا سیگریٹ سے کوئی تعلق نہیں۔
جو مال پکڑا جارہا ہے ان میں سینٹر دلاور کا مال بھی شامل ہوتا ہے جو کہا گیا۔
سینٹر فیصل سیلم بھی اس وجہ سے بدنام ہو رہے ہیں۔ سینٹر دلاور نو بٹھانا ہے بٹھائیں میں اس کا ممبر نہیں رہوں گا۔ وزیراعظم اور خواجہ آصف کو بریف کیا گیا کہ کمیٹی میں سیگریٹ کمپنیوں کے مالک بیٹھے ہیں۔ �ہم مشکوک ہو رہے ہیں۔ ایف بی آر کے معاملے سے ہمارا کیا تعلق ہے۔ آئندہ مٹینگ میں سینٹر دلاور آئے تو میں نہیں آوں گا۔

سنیٹر دلاور نے سینیٹر طلحہ محمود کا بازو پکڑ کر اُن کو بات کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ میرا مزید نام نہیں لینا میں نے بہت صبر کیا ہے۔

سینٹر دلاور اور طلحہ محمود میں تلخی مزید بڑھی اور ایک نے دوسرے کو کہا کہ آپ کے پاس تو شناختی کارڈ نہیں۔ اربوں چوری کے کیسز ہیں۔
سینٹر دلاور نے طلحہ محمود پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ آپ جیسے میرے نوکر ہیں۔ آپ کے باپ کا نوکر ہوں آپ تو بیٹری چوریاں کرکے یہاں آگئے ہیں۔

سینیٹر طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ کمیٹی بار بار مشکوک ہورہی ہے۔ یہ تمام افسران ہم پر شک کر رہے ہیں۔ پاکستان ٹوبیکو جس نے تمام مشہوری کی ہے۔ ایف بی آر دو کمپنیوں کو کیوں فیور دے رہا ہے۔ ایف بی آر کی وجہ سے کے پی کے کسان سڑکوں پر آگئے ہیں۔

سینٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ دلاور خان کو خصوصی طور پر بلایا جاتا ہے۔ سینٹر دلاور خان نے کبھی ایسا نہیں کہا کہ ان کو کوئی فائدہ پہنچایا جائے۔

سینٹر سیف اللہ ابڑو نے صحافیوں‌کے ایک دھڑے کے رہنما سے کہا کہ پی ایف یو جے بتائے کہ اس چینل کو کس نے خبر دی، ہمیں بتائیں کہ یہ خبر کہاں سے آئی۔
سینٹر دلاور کا کوئی ٹیکس بنتا ہے تو بتائیں میں چیک دینے کے لئے تیار ہوں۔

سنیٹر عمرفاروق نے کہا کہ ہمیں ٹی وی چینل کے اس معاملے کو نہیں چھوڑنا چاہیے، اس کمیٹی کو کمیٹی کے اندر سے متنازع بنایا جا رہا ہے۔
کنوینئر نے کہا کہ �کمیٹی کہیں سے متنازع نہیں اور نہ ہو گی۔

چیرمین کمیٹی نے نیوز چینل اے بی این پر سینیڑز کی سگریٹ سمگلنگ میں‌ نام اور تصویر نشر کرنے کے معاملے پر ڈی جی این سی سی آئی اے کو کمیٹی میں پیش ہونے کی ہدایت کی، وزارت اطلاعات اور پیمرا کے حکام کو بھی اگلے اجلاس میں‌ طلب کیا گیا ہے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے