اہم خبریں

دُنیا کے آخری کونے سے امریکی شہری کو ریسکیو کرنے کا آسٹریلوی پائلٹس کا خطرناک مشن

اگست 7, 2026

دُنیا کے آخری کونے سے امریکی شہری کو ریسکیو کرنے کا آسٹریلوی پائلٹس کا خطرناک مشن

آسٹریلوی فضائی عملے نے ایک امریکی شہری کو انٹارکٹک کے اڈے سے موسم سرما کے وسط میں بچا کر نیوزی لینڈ کے ہسپتال پہنچایا ہے جس کو ایک غیرمعمولی مشن قرار دیا جا رہا ہے-

ایئربس اے 319 لانگ رینج کا ہوائی جہاز نے، کال سائن سنو برڈ 1 کے ساتھ، 31 جولائی کو آسٹریلیا کے شہر ہوبارٹ سے انٹارکٹیکا میں امریکی میک مرڈو سٹیشن کے لیے اڑان بھری تھی-

جہاز کے میلبورن میں مقیم مالک سکائی ٹریڈرز نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ "مدد کی فوری درخواست” کے جواب میں یہ پرواز چلائی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جیٹ پانچ گھنٹے اور 30 منٹ کی پرواز کے بعد میک مرڈو کے قریب فینکس ایئر فیلڈ پر اندھیرے میں اترا اور اُس وقت وہاں درجہ حرارت منفی 43 سینٹی گریڈ تک تھا۔

سکائی ٹریڈرز نے بتایا کہ امریکی شہری کو اسی دن کرائسٹ چرچ، نیوزی لینڈ کے ایک ہسپتال لے جایا گیا، جبکہ انٹارکٹک کی فضائی پٹی میں موسمی حالات انتہائی خراب تھے-
سکائی ٹریڈرز فضائی کمپنی کا آسٹریلیا کے انٹارکٹک پروگرام سے معاہدہ ہے جس کے تحت وہ اپنی خدمات فراہم کرتی ہے۔

یو ایس نیشنل سائنس فاؤنڈیشن نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا کہ مریض کو کرائسٹ چرچ ہسپتال میں انتہائی تشویشناک حالت میں داخل کیا گیا تھا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزارتِ صحت نے جمعہ کے روز امریکی شہری کی حالت کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے یا یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا وہ ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

مشن کی کو پائلٹ، لوئیس رابرٹسن نے کہا کہ حالات طیارے کی صلاحیتوں کی آخری حد کے انتہائی قریب تھے۔

رابرٹسن نے اے بی سی (ABC) کو بتایا کہ ”ہمیں ’ناٹیکل ٹوائلائٹ‘ (سمندری دھندلکے) کا سامنا تھا، جس میں روشنی انتہائی کم ہوتی ہے اور ماحول تقریباً مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوتا ہے، اس کے ساتھ ہی شدید سردی بھی تھی۔ ہم طیارے کی آپریشنل حدود (limitations) کے بالکل آخری حد پر تھے۔“

انہوں نے کہا کہ ”یہ درجہ حرارت حد سے زیادہ سردی کے قریب پہنچ چکا تھا۔ درجہ حرارت منفی 43 ڈگری (سیلسیس) تک گر گیا تھا، جو میرے لیے اب تک کا سرد ترین تجربہ ہے۔ ہوا کی رفتار تقریباً 8 ناٹس تھی، جس کی وجہ سے ’ونڈ چل‘ (ہوا کے باعث سردی کا شدید احساس) بھی کافی زیادہ تھا۔“

رابرٹسن نے بتایا کہ ’راس آئس شیلف‘ (Ross Ice Shelf) پر واقع بیس تک ایک دن پہلے پرواز کرنے کا منصوبہ برفانی طوفان کی وجہ سے منسوخ کرنا پڑا تھا۔

رابرٹسن نے کہا کہ ”وہاں… درحقیقت موقع ملنے کا وقت (window of opportunity) بہت ہی مختصر تھا۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”شدید سردی اور مکمل تاریکی میں وہاں پہنچنا انتہائی غیرمعمولی بات ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ایسا پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔“

جغرافیائی جنوبی قطب پر واقع اس علاقے میں‌ سورج آخری بار 23 مارچ کو غروب ہوا تھا اور اب یہ 21 ستمبر تک طلوع نہیں ہوگا۔

نیوزی لینڈ کی فضائیہ نے اپریل کے مہینے میں—جو جنوبی نصف کرہ میں موسمِ خزاں کا وقت ہے—ایک طبی ہنگامی صورتحال کے دوران، امریکی انٹارکٹک پروگرام میں کام کرنے والے نیوزی لینڈ کے ایک شہری کو فینکس ایئر فیلڈ سے C-130 ہرکولیس طیارے کے ذریعے وہاں سے نکالا تھا۔

گزشتہ سال اگست میں، جو جنوبی نصف کرہ میں موسمِ سرما کا آخری مہینہ ہوتا ہے، نیوزی لینڈ نے طبی علاج کے لیے میک مرڈو (McMurdo) سے تین افراد کو نکالنے کی خاطر اسی قسم کے چار انجن والے ٹربو پروپ ٹرانسپورٹ طیارے کا استعمال کیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے