میکسیکو میں 43 طلبہ کی گمشدگی کا مقدمہ، سابق گورنر 10 سال بعد گرفتار
میکسیکو کے حکام نے جنوبی ریاست ’گیریرو‘ کے سابق گورنر کو سنہ 2014 میں 43 طلبہ کی گمشدگی میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ مقدمہ مجرموں کے سزا سے بچنے اور کارٹیل یعنی مجرمانہ گروہوں کے تشدد میں ریاستی حکام کے ملوث ہونے کی علامت بن چکا ہے۔
وفاقی استغاثہ نے بتایا کہ انہوں نے گیریرو کے سابق گورنر اینجل ایگیرے کو ’ایوٹزیناپا رورل ٹیچرز کالج‘ کے طلبہ کا سراغ لگانے کے لیے درکار شواہد چھپانے کے الزامات پر گرفتار کیا ہے۔
سابق گورنر کا تعلق اس سیاسی جماعت سے ہے جس نے میکسیکو کی موجودہ حکمران جماعت ’مورینا‘ کی بنیاد رکھی تھی۔
یہ اس مقدمے میں اب تک کی سب سے اہم گرفتاری ہے؛ اس سے قبل سابق وفاقی اٹارنی جنرل جیسس موریلو کرام کو حراست میں لیا گیا تھا جو جبری گمشدگی، انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور تشدد جیسے جرائم کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ایگیرے 2011 سے لے کر اکتوبر 2014 تک گیریرو کے گورنر رہے اور طلبہ کی گمشدگی کے ایک ماہ بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔
ایوٹزیناپا کے دیہی ٹیچرز کالج کے طلبہ اُس وقت لاپتہ ہوئے جب وہ احتجاج کے لیے کئی بسوں میں سوار ہو کر جا رہے تھے، اس واقعے نے میکسیکو اور بین الاقوامی برادری کو چونکا دیا تھا، اور اس معاملے کی حقیقت تقریباً 12 سال بعد بھی سامنے نہ آنے پر عوامی غم و غصے کو ہوا دے رہی ہے۔
میکسیکو کے حکام کے مطابق گیریرو ریاست کے شہر ایگوالا میں ایک کارٹیل نے سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ مقامی، ریاستی اور وفاقی حکام بشمول فوج کی ملی بھگت سے طلبہ پر حملہ کیا تھا۔ ممکنہ طور پر حکام اور اہلکار اس جرم میں حصہ لے رہے تھے یا اسے چھپانے میں ملوث تھے۔
میکسیکو کی اٹارنی جنرل ارنسٹینا گوڈوئے نے کہا کہ رواں سال حاصل ہونے والی دو گواہیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابق گورنر اگیرے نے نہ صرف حکام سے اس رات حملے کے مقامات میں سے ایک کے سکیورٹی کیمرے کی فوٹیج حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا، بلکہ ان واقعات سے متعلق کسی بھی ثبوت کو تلف کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔
ارنسٹینا گوڈوئے نے کہا کہ "اٹارنی جنرل کے دفتر کے پاس ایسے ثبوت موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ شواہد کو چھپانے کا یہ حکم براہِ راست اُس وقت کے گورنر کی جانب سے جاری کیا گیا تھا، جس میں ریاستی سطح کے اعلیٰ عہدیدار بھی شامل تھے۔”
اُن کا کہنا تھا کہ "ریکارڈنگز کو چھپانا کوئی الگ تھلگ واقعہ یا تکنیکی غلطی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک مذموم کارروائی کا نتیجہ تھا جسے ریاستی انتظامی شاخ کی اعلیٰ ترین سطح سے جان بوجھ کر ترتیب دیا گیا تھا۔”

