نہیں لگتا کہ پاکستان، سعودیہ اور ترکی کا مشترکہ دفاعی معاہدہ ہمارے خلاف ہے: ایران
ایران نے کہا ہے کہ اُس کو نہیں لگتا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا مشترکہ دفاعی معاہدہ اُس کے خلاف ہے-
ایران کے تین پڑوسی ملکوں کے درمیان دفاعی معاہدہ جسے معاہدۂ مکہ بھی کہا جاتا ہے، کے بارے میں پیر کو ایک سوال کے جواب میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’فکر مند ہونے کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف ہے۔‘
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں اس معاہدے کو خطے کے ممالک کے ادراک میں تبدیلی کی علامت قرار دیتے ہوئے ایرانی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ممالک اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ وہ امریکہ کی جانب سے سکیورٹی فراہم کرنے کے دعوے پر انحصار نہیں کر سکتے۔‘
اسماعیل بقائی نے یہ کہا کہ جب تک بحری ناکہ بندی اور مفاہمتی معاہدے کی دیگر شقوں کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، ’آبنائے ہرمز کے ایک محفوظ آبی راستے میں تبدیل ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔‘
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ ’جب تک امریکہ کی جانب سے عہد شکنی جاری ہے، مذاکرات کا دوبارہ آغاز ممکن نہیں۔‘
تاہم ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف کے دورۂ پاکستان کے لیے دعوت نامہ موصول ہوا ہے اور مناسب وقت پر یہ دورہ انجام پائے گا۔‘
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران فی الحال آبنائے ہرمز میں راستے کے تعین کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے: ’ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہے۔ پیغامات کا تبادلہ ایک فطری امر ہے اور یہ روزمرہ معاملات کے بارے میں ثالثوں کے ذریعے ہوتا رہتا ہے۔‘
وزارت خارجہ کے ترجمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان مذاکرات میں ماحولیاتی امور اور بحری خدمات کی فراہمی کے حوالے سے طریقۂ کار زیر بحث آئے ہیں اور ’یہ فطری بات ہے کہ جب آپ بحری خدمات فراہم کرتے ہیں تو اس کے عوض معاوضہ وصول کریں گے۔