اہم

امریکی جنرل ایران کے ساتھ جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں، سی این این

اگست 10, 2026

امریکی جنرل ایران کے ساتھ جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں، سی این این

امریکی نیوز چینل سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں‌ دعویٰ کیا ہے کہ ’اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار مشرق وسطٰی میں جنگ سے نکلنے اور امریکی فوجیوں کو محفوظ رکھنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں، جبکہ کانگریس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خاتمے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید سخت اقدامات، جن میں ایرانی مظاہرین کو ہتھیار فراہم کرنا بھی شامل ہے، کے حامیوں کی آوازیں زور پکڑ رہی ہیں۔‘

سی این این نے معاملے سے واقف تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین نے حالیہ ہفتوں کے دوران صدر کے دیگر اعلیٰ مشیروں کے ساتھ گفتگو میں ایران کے ساتھ جنگ کو مزید بڑھانے کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جانا چاہیے۔

ان ذرائع میں سے ایک نے سی این این کو بتایا کہ ’جنرل ڈین کین جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔‘

رپورٹ کے مطابق جنرل ڈین کین اس معاملے میں اکیلے نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے امریکہ ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے۔

انھوں نے جنگ کو مزید بڑھانے کے لیے فوجی آپشنز سے متعلق اپنے خدشات کابینہ کے دیگر اہم ارکان، جن میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہیں، کے ساتھ بھی شیئر کیے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی جنرل کین نے ٹرمپ کے دیگر اہم مشیروں اور ساتھیوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت بھی کی ہے تاکہ مختلف حکومتی اداروں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے اور صدر سے ملاقات سے قبل تمام حکام ایک ہی مؤقف پر ہوں۔

رپورٹ کے مطابق ان بات چیت کا مقصد دستیاب فوجی آپشنز کی حدود اور ان سے وابستہ خطرات کو واضح کرنا تھا، جن میں ایسے آپشنز بھی شامل ہیں جن کے لیے امریکی زمینی فوج کی تعیناتی ضروری نہیں ہوگی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے