اہم خبریں

امیگریشن کی کاغذی کارروائی میں‌ غلطی، پاکستانی شہری نے امریکی جیل میں‌ 30 دن گزار دیے

اگست 10, 2026

امیگریشن کی کاغذی کارروائی میں‌ غلطی، پاکستانی شہری نے امریکی جیل میں‌ 30 دن گزار دیے

واشنگٹن ڈی سی : سید فیصل علی

امریکہ میں کانگریسکے رکن نے دعویٰ کیا ہے کہ امیگریشن کریک ڈاؤن میں غیر پیشہ وارانہ رجحان کا انکشاف ہواہے جہاں ایک پاکستانی شہری کو امیگریشن سروس USCIS کی کاغذی کارروائی میں غلطی کے باعث حراست میں لیا گیا اور اُن کے دفتر کی کوششوں‌ سے 30 دن بعد رہائی ملی-

امریکی ریاست ورجینیا میں اپنے حلقے کے ووٹرز سے میٹنگ کے دوران کانگریس کے ڈسٹرکٹ 10th کے رکن امریکی کانگریس سبھاس سبرامینیم نے امیگریشن انفورسمنٹ، ایران کے ساتھ جنگ، اسرائیل کو امریکی فوجی امداد اور شمالی ورجینیا میں تیزی سے بڑھتے ڈیٹا سینٹرز سے پیدا ہونے والے توانائی کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس کو ان معاملات میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

کمیونٹی سے گفتگو اور سوال و جواب کے دوران رکنِ کانگریس نے کہا کہ وہ مشکل اور تنقیدی سوالات کا خیرمقدم کرتے ہیں اور کمیونٹی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ حکومتی پالیسیوں سے متعلق اپنی آرا بلاجھجھک ان تک پہنچائیں۔

امیگریشن اور کسٹم انفورسمنٹ کی کارروائیوں اور امیگریشن پالیسی پر تحفظات

امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی ادارے کو امیگریشن قوانین نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم موجودہ کارروائیوں کے طریقہ کار اور بعض افراد کو حراست میں لینے کے واقعات پر انہیں شدید تحفظات ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایسی قانون سازی متعارف کرائی ہے جس کے تحت انفورسمنٹ اہلکاروں کی واضح شناخت اور باڈی کیمروں کے استعمال کو یقینی بنایا جاسکے۔ ان کے مطابق کارروائیوں میں شفافیت ضروری ہے تاکہ کسی شکایت کی صورت میں واقعے کا قابلِ اعتماد ریکارڈ موجود ہو۔

انہوں نے ایک پاکستانی نژاد امریکی خاتون کے شوہر کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ USCIS کی جانب سے کاغذی کارروائی میں غلطی کے باعث انہیں ICE نے حراست میں لے کر ٹیکساس منتقل کردیا، جہاں وہ تقریباً 30 دن زیرِ حراست رہے۔ ان کے بقول ان کے کانگریشنل دفتر نے مذکورہ شخص کی رہائی کے لیے کام کیا۔

انہوں نے جامع امیگریشن اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں سے امریکا میں مقیم، قانون کی پابندی کرنے والے اور مجرمانہ ریکارڈ نہ رکھنے والے بعض غیر دستاویزی تارکین وطن کے لیے شہریت کا راستہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے بالخصوص ان افراد کا ذکر کیا جو بچپن میں امریکا آئے اور طویل عرصے سے امریکی معاشرے اور معیشت کا حصہ ہیں۔

ایران جنگ کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کے ساتھ امریکی جنگ کے حوالے سے رکنِ کانگریس نے کہا کہ صدر کو طویل جنگ جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری حاصل کرنی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق اس معاملے پر متعدد War Powers Resolutions پیش کی گئی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران جنگ پر تقریباً 100 ارب ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں اور سوال اٹھایا کہ جب صحت اور خوراک سے متعلق داخلی پروگراموں کے لیے فنڈز کی کمی کا مؤقف اختیار کیا جاتا ہے تو بیرون ملک جنگ پر اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کا کیا جواز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک امریکا کو یہ جنگ فوری طور پر ختم کرکے کانگریس کے ساتھ مل کر سفارتی اور قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی پر نظرثانی کی حمایت

اسرائیل اور غزہ کی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ امریکا کو اپنے اتحادیوں کو بھی ان کے اقدامات پر جواب دہ بنانا چاہیے۔ انہوں نے مغربی کنارے کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ وہ اس حوالے سے متعدد قانون سازی اقدامات کی حمایت کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی تعاون اور مستقبل میں ہتھیاروں کی فراہمی پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے اور ایسے ہتھیار فراہم نہیں کیے جانے چاہئیں جو شہریوں کے خلاف استعمال ہوں۔

اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز سے بجلی کے بل بڑھنے کا خدشہ

شمالی ورجینیا میں بجلی کی بڑھتی قیمتوں کے سوال پر رکنِ کانگریس نے ڈیٹا سینٹرز کو توانائی کی طلب میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے کانگریشنل ڈسٹرکٹ میں ڈیٹا سینٹرز کا بہت بڑا ارتکاز موجود ہے اور مزید منصوبوں کے باعث بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے بنیادی ڈھانچے پر غیر معمولی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ان کے مطابق ایک بڑی پالیسی غلطی یہ ہوئی کہ نئے ڈیٹا سینٹرز کے لیے درکار بجلی کے انفراسٹرکچر کا مالی بوجھ عام صارفین کے یوٹیلیٹی بلوں پر منتقل ہونے دیا گیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈیٹا سینٹر کمپنیوں کو اپنی بجلی اور متعلقہ انفراسٹرکچر کے اخراجات خود برداشت کرنے چاہئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شمالی ورجینیا میں مزید بڑی ٹرانسمیشن لائنوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جبکہ نئی لائنوں کو ممکنہ حد تک زیرِ زمین تعمیر کرنے پر غور ہونا چاہیے تاکہ رہائشی آبادیوں پر بڑے ٹاورز کا اثر کم کیا جاسکے۔

رکنِ کانگریس نے کہا کہ وہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس کی قیمت عام شہریوں سے بجلی اور پانی کے بڑھتے بلوں کی صورت میں وصول نہیں کی جانی چاہیے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے