میر رضا علی قتل کیس، شرجیل میمن نے سائبر کرائم ایجنسی سے رابطہ کیوں کیا؟
کراچی میں 25 سالہ کاروباری نوجوان میر رضا علی کی موت کی درست تفتیش میں پولیس کی ناکامی پر سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مقتول کے اہلخانہ نے واقعے کی عدالتی تحقیقات سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد صوبائی حکومت نے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا معاملہ موخر کر دیا ہے۔
دوسری جانب سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل میمن نے اس معاملے میں انھیں ملوث کیے جانے کی سوشل میڈیا مہم کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے رجوع کیا ہے۔
صوبائی وزیر کے وکلا نے کراچی کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں جمع کرائی گئی درخواست میں کہا ہے کہ بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے شرجیل میمن اور ان کے خاندان کے بارے میں ایسی پوسٹس اور ویڈیوز شیئر کی گئیں جن میں مبینہ طور پر جھوٹے دعوے کیے گئے۔
شکایت کے مطابق 9 اگست کو فیس بک کے بعض پیجز اور گروپس پر ایسی پوسٹس شیئر کی گئیں جن میں گلستانِ جوہر کے اس گیسٹ ہاؤس کو، جہاں مبینہ طور پر میر رضا علی کی موت کا واقعہ پیش آیا، شرجیل میمن کی ملکیت قرار دینے کی کوشش کی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ اس واقعے کے بعد شرجیل میمن کے بیٹے راول میمن اپنے سکیورٹی گارڈ کے ہمراہ لندن چلے گئے۔
شرجیل میمن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کا یا ان کے بیٹے کا مذکورہ گیسٹ ہاؤس، میر رضا علی کی موت یا اس واقعے میں ملوث افراد سے کوئی تعلق نہیں۔
پاکستانی سوشل میڈیا پر میر رضا علی کی لاش ملنے کے بعد سے ان کی موت کی وجوہات اور ذمہ داران کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔
میر رضا علی 28 جولائی کو لاپتہ ہوگئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے ملی تھی۔ مقتول کے اہلخانہ کا مؤقف ہے کہ میر رضا کو اغوا کرنے کے بعد تشدد کر کے قتل کیا گیا۔
کراچی پولیس ابتدائی طور پر اس تناظر میں تحقیقات کر رہی تھی کہ میر رضا نے خودکشی کی تاہم اہلخانہ کے اصرار اور پولیس سرجن کی جانب سے ابتدائی پوسٹ مارٹم پر اٹھائے گئے سوالات کے بعد قبر کشائی کے بعد ان کا دوسری بار پوسٹ مارٹم کیا گیا جس میں سامنے آنے والی چوٹوں کی تفصیلات کے بعد خودکشی کا امکان مسترد کرتے ہوئے مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کر دی گئی تاہم دو ہفتے کا وقت گزر جانے کے باوجود پولیس نے تاحال کسی فرد کو اس معاملے میں گرفتار نہیں کیا۔

